میں جس ارادے سے جارہی ہوں اسی ارادے سے لڑ پڑوں گی
مرے سپاہی کو کچھ ہوا تو میں شاہزادے سے لڑ پڑوں گی
معلیٰ
مرے سپاہی کو کچھ ہوا تو میں شاہزادے سے لڑ پڑوں گی
میرا سر ننگا سہی شان مگر باقی ہے
مرے گمان سے وہ شخص جانے والا ہے جسے میں آئینے میں دیکھتا ہوں اپنی جگہ
زندگی شہر میں ہوگی کہیں دو چار کے پاس
مجھے سرکارؐ کا درباں بنایا محبت میرے دل میں اپنی ڈالی درِ محبوب پر مجھ کو بٹھایا
وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے خدا کی یاد ہے دل میں ظفرؔ کے خدا کے ذکر میں ہی اُس کی جاں ہے
نہ شان عالی، نہ عالی بخت مانگو خدا سے بس خدا و مصطفیٰؐ کی محبت ہر گھڑی ہر وقت مانگو
مکیں سارے مکان و لامکاں ہیں ظفرؔ سارے زمانے سرخمیدہ ادب سے سرنگوں سارے جہاں ہیں
کرم کا سائباں میرا خدا ہے میں تپتی دھوپ میں بھی پرسکوں ہوں ظفرؔ سایہ کناں میرا خدا ہے
خدا کا نام ہے میری زباں میں خدا کا نام ہے روحِ رواں میں خدا کا نام قلبِ عاشقاں میں