اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں

مِرے خُدا ! تُو تو جانتا ھے مَیں جس طرح گھر چلا رھا ھُوں تُمہارے پیروں سے جو چُھوئے تھے وہ مَیں نے جیبوں میں بھر لیے تھے طلائی سِکّوں کی جگہ مَیں آج بھی وہ کنکر چلا رھا ھُوں تُمہی بتاؤ، تمہارے دل پر چلے بھی کیسے مِری محبت ؟ یہ گہرے پانی کی […]

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

محبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں تبھی سے ماہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کا قریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں لگتا نہ جانے اتنی کڑواہٹ کہاں سے آ گئی مجھ میں کرے […]

کام کو آدھا کر لیتے ہیں

عشق زیادہ کر لیتے ہیں درد سے جب بھر جائے دل تو اور کشادہ کر لیتے ہیں پیار تو وہ بھی کرتے ہیں پر ہم کچھ زیادہ کر لیتے ہیں میں اور دشمن فرض کا اپنے روز اعادہ کر لیتے ہیں ہجر کی لمبی راتوں کو ہم کاٹ کے آدھا کر لیتے ہیں شاہ گرانا […]

جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک

مرے ذائچے کی وہ ابتدا نہیں ہو رہا تجھے بھولنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں تجھے یاد کرنے کا سلسلہ تو کمال تھا میں اُسی کے ہاتھ میں دے چکا ہوں وجود بھی مجھے لے اُڑا ہے مگر ہوا نہیں ہو رہا مری بے بسی، مری بے کسی، مرے حوصلے مری آرزو، مری آبرو، […]

اک بہانہ تھا شام سے پہلے

لوٹ آنا تھا شام سے پہلے شام کے بعد جیت جاتے ناں ہار جانا تھا شام سے پہلے رات جو رونے دھونے بیٹھو گے غم سنانا تھا شام سے پہلے اب بھلا رات کیسے گزرے گی دل دُکھانا تھا شام سے پہلے چاہے تم بعد میں مُکر جاتے مان جانا تھا شام سے پہلے یہ […]

اکثر آتے جاتے حاصل ایک سعادت ہوجاتی ہے

اس کی آنکھیں پڑھ لیتے ہیں اور عبادت ہوجاتی ہے ہم ملتے تھے چاند ، ہوا ، بادل اور جھیل نے دیکھا ہوگا چار گواہ اکٹھے ہوں مقبول شہادت ہو جاتی ہے دکھ بھی بچے جن سکتے ہیں میرے چاروں جانب دیکھو ہر شب میرے کمرے میں آہوں کی ولادت ہو جاتی ہے پھولوں کا […]

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا اہلِ دل سے یہ ترا ترکِ تعلق یعنی وقت سے پہلے اسیروں کا رہا ہو جانا یوں اگر ہو تو جہاں میں کوئی کافر نہ رہے معجزہ ہے ترے وعدے کا وفا ہو جانا زندگی! میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے تو مرے دوست کا […]