اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
مِرے خُدا ! تُو تو جانتا ھے مَیں جس طرح گھر چلا رھا ھُوں تُمہارے پیروں سے جو چُھوئے تھے وہ مَیں نے جیبوں میں بھر لیے تھے طلائی سِکّوں کی جگہ مَیں آج بھی وہ کنکر چلا رھا ھُوں تُمہی بتاؤ، تمہارے دل پر چلے بھی کیسے مِری محبت ؟ یہ گہرے پانی کی […]