’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘

روشن تمہارے نور سے ہے انجمن تمام جاناں ترے ظہور مقدس کے ساتھ ساتھ طے ہو گئے مراحل تکمیل فن تمام کچھ کچھ کبھی کبھی نظر آیا کہیں کہیں پایا ہے کس نے دہر میں یہ بانکپن تمام گذرا ہے جس طرف سے ترا کاروان فیض بکھرا گیا ہے راہ میں مشک ختن تمام جس […]

چشم ما شد وقف بہر دیدن روی کسی

ما کسی دیگر نمی دانیم در کوی کسی موسیٰ را بے کار کردہ نور بیضا و عصای بر فراز طور سینا حسن جادوی کسی چشم من آلودہ و روی نگار من صفا شرم می آید مرا از دیدن سوی کسی ہر کمال حسن و خوبی ختم شد بر روی او نیست در بازار امکاں ہم […]

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی

زمینِ قلب دیر تک جلیسِ رنگ و بو رہی اذاں میں جس کا تذکرہ سنا تھا ماں کی گود میں مرے قلم کی نوک پر اسی کی گفتگو رہی کفِ طلب میں بے قرار تھیں مری عقیدتیں جبینِ دل کو سنگِ در پہ خم کی آرزو رہی صبا نے چوم لی ہے تیرے بام و […]

ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا

آقا نفس نفس میں مہکا ہے پیار تیرا تو نے جہالتوں سے انسان کو نکالا انسانیت پہ احساں ہے بے شمار تیرا میری حیات جس کی رعنائیوں سے مہکی وہ ہے سرور تیرا وہ ہے قرار تیرا ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں بادل پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار تیرا کشمیر […]

عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا

لائے وہ اپنے ساتھ، صحیفہ حیات کا آمد نے تیری بخشے ہیں تخلیق کے شرَف انسان تو غُلام تھا لات و منات کا طاعت ہی تیری مژدئہ فوزِ مدام ہے رکھا گیا ہے مان تری بات بات کا ہوتی نہیں ہے نعت ترے اذن کے بغیر محتاج ہے خیال ترے التفات کا تیرا ہی ذِکرِ […]

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​ خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​ یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​ مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​ نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​ ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی میں جلوے کا طالب ہوں ، […]