ہو المُعِزّ

یا عزیز الجبار یا مرے ربِ کریم یہ مرا جسم ترا ، جان تری ، فکر تری قُل ہو اللہ احد ، قبلہ رُو کر دیا چہرہ کہ نہیں قُل ہو اللہ احد ، تیرے سوا کس کو ثبات قُل ہو اللہ احد ، تجھ سے جدا کیسی حیات سانس امید میں ڈھلتی رہے جانے […]

خدایا مطلعِ موزوں ہے نظمِ کُن فکاں تیرا

فغانِ سازِ ہستی شورِ مرغ صبح خواں تیرا وجودِ دوزخ و جنت گزرگاہِ حق و باطل قیودِ مذہب و ملت طلسم امتحاں تیرا شہود ہستیِ اشیا نقابِ عارضیِ معنی ظہور ہر دو عالم پردۂ رازِ نہاں تیرا کمندِ خاطر عشاق تیرا لطفِ بے پایاں کمیں گاہِ نگاہِ عشق حسنِ بے نشاں تیرا رموزِ ممکن و […]

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن […]

موجِ انفاس کو روانی دے

رات کوئی تو داستانی دے آنکھ منظر کُشا ، نئے پل پل اپنے ہونے کی کچھ نشانی دے حمد لکھوں سنہرے لفظوں میں آبِ زرّیں دے زربیانی دے آٹھواں رنگ جس کا عنواں ہو ایسی تازہ ، نئی کہانی دے نغمے ، طائر ، شجر زمیں پیوست تُو انہیں موسمِ آسمانی دے ہاتھ شل ، […]

میں ترا بندہ ہوں مولا تو مرا پروردگار

میری یک یک سانس پر ہے صرف تیرا اختیار موت بھی قبضہ میں تیرے زندگی بھی تیری دین غم کے بدلہ میں عطا کیں تو نے خوشیاں بے شمار سب تری حمد و ثنا میں رات دن مشغول ہیں گنگناتی ندیاں اور گیت گاتے آبشار حور و غلماں ، جن و انساں ، ماہ و […]

شبِ ازل دمِ اعجاز کُن فکاں تجھ سے

ضمیرِ ہست میں نقشِ طلسمِ جاں تجھ سے دھڑک رہا ہے اگر دل تو اِذن ہے تیرا حریمِ جاں میں جو گونجی ہے تو اذاں تجھ سے حطیمِ فکر جو روشن ہے تیرے نام سے ہے مرے دہن میں ہے گویا تو یہ زباں تجھ سے ترے سبب ہیں جزا و سزا کے سب قصے […]

کیا خدا ہر جگہ نہیں ملتا

ہم جہاں ڈھونڈتے وہیں ملتا وہ ہمیں کس لۓ نہیں ملتا ہر کہیں تھا تو ہر کہیں ملتا سب سے ملتا ہے سب کو ملتا ہے کون کہتا ہے وہ نہیں ملتا دل ہی میں اس کو جستجو ہوتی لطف جب تھا ہمیں یہیں ملتا تھی غرض ہم کو اس کے ملنے کی اس سے […]

از ابد تا ازل خدا تو ہے

ابتدا تو ہے انتہا تو ہے ایک جگنو سے لے کے سورج تک چشمۂ نور ہے ضیاء تو ہے تیری قدرت سے روز و شب کا ظہور ہر نظارے میں رونما تو ہے بحر و بر ہوں کہ آسمان و زمیں ہر طرف تو ہے جا بجا تو ہے ہے مناظر میں ترا عکسِ جمال […]

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن […]

تری ہی روحِ ازل کا پاکیزہ سلسلہ جسم تک رہا ہے

تجھی سے ہر سانس آ رہا ہے تجھی سے ہر دل دھڑک رہا ہے تری توجہ سے موسموں کو ہُنر کی توفیق مل رہی ہے کہ بیج میں رزق اتر رہا ہے ، ہرا بھرا کھیت پک رہا ہے تری تجلی کے نور میں کائنات کو دیکھتی ہیں آنکھیں ہر ایک چہرے کا عکس تیرے […]