روئے حضرت سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا یوسفِ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار اے زلیخا مرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا خیر سے امت عاصی کی شفاعت کر لی ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا عرش پر خالقِ افلاک کے مہمان ہوئے کیوں نہ دنیا سے بلند آپ کا پایا ہوتا […]

شاہ مدینہ

شاہ مدینہ شاہ مدینہ یثرب کے والی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے آباد عالم تیرے کرم سے باقی ہر اک شہ نقش خیالی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ تیرے لئے ہی دنیا بنی ہے نیلے فلک کی چادر […]

اے خُدا نصیب میں رکھ درِ مُصطفے کے بوسے

ھُوں سگِ درِ محمد کبھی دُوں  میں جا کے بوسے کوئی رُوح تک اُترتا جو پیام لا رہی ھے میرے دِل نے احتراما لیئے اُس ھوا کے بوسے میں مچلتے دِل پہ آقا، نہیں رکھ سکا ھوں قابو سو یہ نذر کر رہا ھوں، سرِ دِل لگا کے بوسے جو انی پہ چڑھ کہ قُرآں […]

درُود اُن پر سلام ہیں بے شُمار بیشک

اُنہی کے دم سے ہے زِیست یہ پُر بہار بیشک ہمارا اعزاز ہے کہ ہم اُن کے اُمّتی ہیں تمام نبیوں میں جن کو ہے اِفتخار بیشک کبھی تو ہم کو بھی حاضری کا شرف ملے گا ہمیں مدِینے میں آ کے ہو گا قرار بیشک نہیں ھے دنیا کی اور دولت کی چاہ یاربّ […]

خطا کا پُتلا ہوں مولا، گُناہگار ہُوں میں

تِرا کرم مُجھے درکار تار تار ہُوں میں یہ دُنیا دار مُجھے یُوں حقِیر مانتے ہیں گُلوں کے بِیچ میں جیسے کہ ایک خار ہُوں میں تمام عُمر گُزاری ہے دِل دُکھاتے ہُوئے نہِیں ہے جِس میں کشِش ایسا کاروبار ہُوں میں مُجھے بھی اپنے مُحمد کے درس دِکھلا دے یہ آس رکھے ہُوئے ہُوں […]

مِری جبِیں میں یہ عاجزی اِس یقِین پر ہے کہ تُو ہے آقا

نہِیں اُٹھے گا جو تیرے سجدے میں میرا سر ہے کہ تُو ہے آقا ہوا بھی مستی میں جھوم جائے، فضا نئے گیت گا سنائے تِری ہی توصِیف میں تو اِیمان کی ڈگر ہے کہ تُو ہے آقا زباں کہ لُکنت سے کٹ رہی ہے، جبِیں پسِینے سے تر بتر ہے مگر خُدایا! نزولِ رحمت […]

آنکھ بھر کر دیکھ لیں بس آپ جو ختمُ الرُّسُل

ہم غریبوں کا بھی بیڑا پار ہو ختمُ الرُّسُل پیاس بڑھتی جا رہی ہے اس گدا کی ہر گھڑی اپنے درشن بخش دِیجے آج تو ختمُ الرُّسُل جس نے حق کے رو برُو اُمّت کی بخشِش، مانگ لی آپ وہ اللہ کے پیارے ہیں وہ ختم الرّسل وقت جِتنا بھی کٹِھن ہو، مُشکلیں آسان یوں […]

اترے ہے دل پہ عشق سا پیغام صبح و شام

سمجھاؤں جی کو خود کو کروں رام صبح و شام ذکرِ نبی کی بات الگ ہے، کیا کرو محسوس ہو گا خود بخود آرام صبح و شام زخموں سے چُور چُور ہوں لِلّلہ اک نگاہ سہتا رہوں گا کب تلک آلام صبح و شام پنجتن کا پاک اسم ضمانت سکوں کی ہے لب پر سجا […]

لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا

میں پیدل چل کے مکّے سے مدینے میں نہیں آتا کوئی مقصد تو ہے سینے میں سانسوں کی تلاوت کا فقط جینا تو جینے کے قرینے میں نہیں آتا بس اُنگلی کے اشارے سے مرے دل کو بھی شق کر دے پگھلنے سے یہ پتھر آبگینے میں نہیں آتا مدینے کی ہَوا کی تمکنت ملتی […]

خدا اُس کا محافظ ہے جو ہے گلشن محمد کا

جلا سکتی نہیں بجلی کوئی، خرمن محمد کا یہ وہ نعمت ہے ، جس کو حاصلِ دنیا و دیں کہیۓ خدا شاہد ہے کافی ہے مجھے دامن محمد کا حدیث عشق ہے یہ اس کو اہل دل سمجھتے ہیں خدا کا ہے وہ دشمن جو کہ ہے دشمن محمد کا مری بے اختیاری پر نہ […]