صحنِ حرم سے دیکھ رہا ہوں حدِ نظر سے آگے بھی

دستِ دعا سے بابِ اثر تک بابِ اثر سے آگے بھی دیکھ نظر تو دیکھ سکے جو دیدۂ تر سے آگے بھی شہرِ نبی میں اک منظر ہے ہر منظر سے آگے بھی فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک چُھوٹ ہے گنبدِ خضرا کی خلدِ نظر ہی خلدِ نظر ہے خلدِ نظر سے آگے بھی […]

میں بہک سکوں یہ مجال کیا ، مرا رہنما کوئی اور ہے

مجھے خوب جان لیں منزلیں ، یہ شکشتہ پا کوئی اورہے مری التجا ہے یہ دوستو ، کبھی تم جو سوئے حرم چلو تو بنا کے سر کو قدم چلو ، کہ یہ راستہ کوئی اور ہے وہ حبیبِ ربِ کریم ہیں ، وہ رؤف ہیں وہ رحیم ہیں انہیں فکر ہے مری آپ کی […]

وہ جلوہ بار ہر سُو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے

نگاہیں میری آہو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے یہ کیا کم ہے کہ ہے توفیقِ اظہارِ طلب مجھ کو مری آنکھوں میں آنسو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے ادھر اک میں ہوں اور میری خطائیں ہیں ، ادھر لیکن کرم کے لاکھ پہلو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے تپائے تھے دماغ و […]

یوں سجدۂ تعظیم میں آقا کے پڑی ہے

جیسے یہ جبیں پائے مقدس سے جڑی ہے سو بار ہوئی سجدہ کناں بھی اسی در پر سو بار یہی عقل ہے جو دل سے لڑی ہے صد شکر کہ پابند ہوں احکامِ نبی کا نسبت بھی بڑی ہے مری قسمت بھی بڑی ہے انساں ہے نبرد آزما شیطاں سے بہ ہر گام انساں کا […]

اے رسولِ ہاشمی ، اے سرِّ تکوینِ حیات

اے کہ تیری ذات ہے وجۂ نمودِ کائنات تو نہ تھا تو محفلِ کون و مکاں بے رنگ تھی تو نہ تھا تو بزمِ ہستی سازِ بے آہنگ تھی حسنِ فطرت میں ابھی ذوقِ خود آرائی نہ تھا عشق ابھی تک دشمنِ صبر و شکیبائی نہ تھا تلخیٔ حق سے ابھی ناآشنا گفتار تھی عقلِ […]

ظہورِ نورِ ازل کو نیا بہانہ ملا

حرم کی تِیرہ شبی کو چراغِ خانہ ملا تری نظر سے ملی روشنی نگاہوں کو دلوں کو سوزِ تب و تابِ جاودانہ ملا خدا کے بعد جمال و جلال کا مظہر اگر ملا بھی تو کوئی ترے سوا نہ ملا وہ اَوجِ ہمّتِ عالی وہ شانِ فقرِ غیور کہ سرکشوں سے بہ اندازِ خسروانہ ملا […]

انکی ناموس پہ جب حرف کوئی پائیں گے

جاں لٹانے کو مسلمان چلے آئیں گے میری بے نور سیہ رات بھی اجلی ہوگی جب بھی آقا مجھے خوابوں میں نظر آئیں گے حال دل اپنا لبوں سے میں کہوں گی کیسے اشک امڈیں گے تو سرکار سمجھ جائیں گے غرض ہوتی نہیں دنیا کی کسی محفل سے ہم ترے در پہ پڑے تھے، […]

ذائقہ اس لیے بھی میٹھا نہیں

لفظ ہیں نعت کا سلیقہ نہیں ایک دنیا جہاں پہ جنت ہے اک وہ جنت جہاں مدینہ نہیں روشنی مبتلائے حیرت ہے نور کے باوجود سایہ نہیں اور اس دل کو نام کیا دو گے؟ آسمانی اگر صحیفہ نہیں مانگنے والو ! قسمتیں مانگو روبرو آپ کو جو دیکھا نہیں پھول سے کم نہیں ہے […]

اس گھڑی اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا

جس گھڑی طیبہ نگر میرا بھی جانا ہوگا ہم غریبوں پہ کرم گر نہ تمہارا ہوگا پھر غریبوں کا بھلا کیسے گزارا ہوگا بالیقیں باغ جناں اسکا ٹھکانہ ہوگا عشق سرکار میں جو عمر گزارا ہوگا ترا در چھوڑ کے جائیں گے کہاں اور شہا ہم فقیروں کا کہاں اور ٹھکانہ ہوگا چاند تاروں سے […]

طیبہ آنے کی اجازت کیجئے مجھ کو عطا

اے نبیء محترم ہے آپ سے یہ التجا بعد مرنے کے مجھے بھی اپنے کوچے میں شہا دفن ہونے کے لئے دے دیجئے دو گز جگہ مجھکو بھی آقا مرے لو اس برس طیبہ بلا ہجر طیبہ سے مرا اب جینا دوبھر ہو گیا اللہ اللہ کس قدر پرکیف منظر ہے وہاں جس جگہ پر […]