صحنِ حرم سے دیکھ رہا ہوں حدِ نظر سے آگے بھی
دستِ دعا سے بابِ اثر تک بابِ اثر سے آگے بھی دیکھ نظر تو دیکھ سکے جو دیدۂ تر سے آگے بھی شہرِ نبی میں اک منظر ہے ہر منظر سے آگے بھی فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک چُھوٹ ہے گنبدِ خضرا کی خلدِ نظر ہی خلدِ نظر ہے خلدِ نظر سے آگے بھی […]