سوہنیاں سوہنیاں مٹھیاں مٹھیاں بھاگاں بھریاں پیار دیاں

آؤ رَل کے گلاں کرئیے ! اَج مدنی سرکار دیاں جتھے ذکرِ محمدی ہووے اوہ تشریف لیاؤندے نیں ہستیاں اوہ تشریف لیاون جو طالب دیدار دیاں واہ وا شہر مکے دی قسمت گلیاں بھاگاں بھریاں نیں جس مٹی تے لگیاں تَلیاں نبیاں دے سردار دیاں ابوبکرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ تے عمرؓ توں صدقے جاواں […]

وہ ذات اعلیٰ و ارفع محمد نام ہے جس کا

کفر کو دور کرنا اس جہاں سے کام ہے جس کا عرب میں ہو گیا مبعوث وہ ختم الرسل بن کر خد اکو ایک مانو بس یہی پیغام ہے جس کا طریقہ سیدھا سادہ دے دیا دنیا کو جینے کا یہ ساری آدمیت کے لیے انعام ہے جس کا کیا نازل خدا نے وہ صحیفہ […]

اُنہی کی مہربانی کا صلہ ہے

ہمیں جو کچھ ملا اُن سے ملا ہے نہ طیبہ کی ہوئی اب تک زیارت مجھے اپنے نصیبوں سے گلہ ہے سنی کس نے وحی سے گفتگو تھی کلام اللہ زبانِ مصطفیٰ ہے ہے مذہب غیب پر ایمان لانا نہیں مسلم جو شک میں مبتلا ہے یقین کر لو کہا جو مصطفیٰ نے اُلجھنا بحث […]

مری زندگی میں یہ نکتہ نہاں ہے

محمد ہی دل ہے ، محمد ہی جاں ہے دلارے محمد کا ذکر و تصور قرارِ نگہ ہے ، سرُورِ زباں ہے یہاں آ گیا جو ، یہیں کا ہوا وہ محمد کی محفل کا ایسا سماں ہے احاطہ ہے کرتا یہی زندگی کا محمد کا کتنا سنہرا بیاں ہے کسی اور حاجت نہیں مجھ […]

وہ آقا بھی ہے ، وہ مولا بھی ہے

وہ تیرا بھی ہے ، وہ میرا بھی ہے جس کے دامن میں خوشبو ہی خوشبو وہ اچھا بھی ہے ، وہ پیارا بھی ہے اپنوں کا اپنا ، وہ یاروں کا یار سب کی امیدوں کا یارا بھی ہے وہ دل کی ٹھنڈک اور آنکھوں کا نور وہ میری ہستی کا ملجا بھی ہے […]

محمد کی رحمت ہے تو ڈر نہیں ہے

محمد کے در سا کوئی در نہیں ہے برابر ہو کوئی جو میرے نبی کے زمیں پر کوئی ایسا رہبر نہیں ہے یہ جتنے بھی دنیا میں آئے نبی ہیں کوئی بھی محمد سے برتر نہیں ہے مرے مصطفیٰ کی ہدایت سے بڑھ کر ہدایت کسی اور کی بڑھ کر نہیں ہے نبی کا ہو […]

بنتا ہی نہیں تھا کوئی معیارِ دو عالم

اِس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کُھلتیں اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم آ کر یہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ لگتا ہے اِسی غار میں دربارِ دو عالم توقیر بڑھائی گئی افلاک و زمیں کی پہنائی گئی آپ کو دستارِ دو عالم وہ […]

تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا

یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا شب معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم سخن طالب و مطلوب ہوا خوب ہوا اے شہنشاہ رسل فخر رسل ختم رسل خوب سے خوب خوش اسلوب ہوا خوب ہوا حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا بخشوانا تجھے مرغوب ہوا خوب ہوا حسن یوسف میں […]

تھے وہاں گامزن حق کے پیارے

اک فرشتہ جہاں پر نہ مارے وہ جو غربت میں دے دیں سہارے خود مسافر کو منزل پکارے بھیک دو آمنہ کے دلارے اک بھکاری ہے دامن پسارے ان کے آنسو حسیں اور اتنے جیسے عرش الٰہی کے تارے مسکرانے میں کوثر کی موجیں اور تبسم میں رحمت کے دھارے سجدہ ریز ان کے قدموں […]

گھٹنے لگتی ہے تو سرکار بڑھا دیتے ہیں

لو چراغوں کی لگاتار بڑھا دیتے ہیں کس قدر حسن عنایت ہے مرے آقا کا کہ ضرورت سے بھی دو چار بڑھا دیتے ہیں دھوپ میں بیٹھے فقیروں کی خبر ہے ان کو دور تک سایۂ دیوار بڑھا دیتے ہیں آپ کے رحم کی تقسیم بڑھی جاتی ہے لوگ جب گرمئ بازار بڑھا دیتے ہیں […]