ادھر ادھر تو کئی راستے بنے ہوئے ہیں

جو آپ کے ہیں وہ بس آپ کے بنے ہوئے ہیں خدا کی دین ہے ہاتھوں پہ کس کے کیا لکھ دے کہیں لکیریں کہیں قافلے بنے ہوئے ہیں دکھائی دیتا ہے شفاف ان میں عشق رسول ہمارے چہروں پہ جو آئنے بنے ہوئے ہیں یہاں پہ حکم ہے آوازیں پست رکھنے کا نبی سے […]

جس میں ترا عکس اتر گیا ہے

آئینہ وہی سنور گیا ہے جو نام پہ تیرے مر گیا ہے دنیا میں وو نام کر گیا ہے بیگانہ رہا جو تیرے در سے کم بخت وہ در بدر گیا ہے جس کو بھی ملا ترا سفینہ خوش بخت وہ یار اتر گیا ہے آئینۂ مصطفیٰ میں آ کر کیا جلوۂ حق نکھر گیا […]

ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا

کیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا بنا ہے مہبط جبرئیل کاشانہ محمد کا اب افسانہ خدا کا ہے ہر افسانہ محمد کا ڈرے کیا آتش دوزخ سے دیوانہ محمد کا کہ اٹھے شعلے گل کرتا ہے پروانہ محمد کا ظہور حال و مستقبل سے ماضی کو ملا دوں گا مجھے پھر آج دہرانا […]

رحمت ہے جو کچھ اور سِوا ہونے لگی ہے

روزے سے ہوں اور نعت عطا ہونے لگی ہے توفیق ملی ہے جو کھلی سانس کی مجھ کو جتنی بھی گھٹن تھی وہ ہوا ہونے لگی ہے اے عجز ِ بیاں دیکھ ‘ ذرا حرف ِ رواں دیکھ یہ نعت جو آنکھوں سے ادا ہونے لگی ہے اے شافعِ محشر مری دھرتی پہ نظر کر […]

گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے

پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے سچ یہ ہے ساری زیست ہی دیوان نعت ہے "ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے” تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر ثابت تو کر کہ ہاں مجھے […]

ہے ایک سَیلِ ندامت اس آبگینے میں

عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں اسی زمیں اسی مٹی سے نور پُھوٹا تھا اسی دیار ، اسی رُت ، اسی مہینے میں ہے بند آنکھ میں بھی عکسِ مسجدِ نبوی جَڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں کسی نے اسمِ محمد پڑھا تو ایسا لگا کہ جیسے کوئی پرندہ اُڑا ہو […]

وہ صبحِ منور مکے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی

وہ صبحِ منوّر مکّے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی عمّامہ سنہرے ریشم کا ، چادر نیلے پشمینے کی صحرا سے ندا سی آتی ہے راتوں میں مجھ کو جگاتی ہے یہ دل پر تھاپ کسی دَف کی یہ ہُوک کسی سازینے کی ان اونچے ٹیلوں کے پیچھے کوئی ہجر کا نغمہ گاتا ہے […]

شبِ جدائی کے لمحے اڑان بھرنے لگے

سحر ہوئی تو مدینہ میں ہم اترنے لگے سیہ فراق کا چھلکا ہٹا، سحر پھوٹی سنہری دھوپ کھلی نخل جاں نکھرنے لگے گناہ تھا تو نہیں پر گناہ جیسا لگا جب اس زمین پہ ہم اپنے پاؤں دھرنے لگے وہ سنسناہٹیں تھیں کھنکھناتی مٹی کی کہ جیسے کوری صراحی میں پانی بھرنے لگے ہمارے پاس […]

وہی ہے خوف جو کم مائیگی کا ہوتا ہے

وگرنہ شوق تو نعتِ نبی کا ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ تشبیب سے گریز کروں اگر تو حکم قصیدہ گری کا ہوتا ہے میں زندہ نعت لکھوں اور زندہ رہ جاؤں وگرنہ فائدہ کیا شاعری کا ہوتا ہے یہ اک سبق بھی پیمبر سے روشنی کو ملا کہ سب سے تیز سفر جسم ہی […]

واعظ خطر نہیں مجھے نارِ حجیم کا

ہوں امتی شفیع کا بندہ کریم کا اعدا کے واسطے بھی نہ کی بددعا کبھی اللہ رے مرتبہ ترے خلقِ عظیم کا یوسفؑ کا حسن نوحؑ کی سطوت دم مسیحؑ خلت خلیلؑ کی یدِ بیضا کلیمؑ کا مولا کے قد و زلف و دہن کی مثال ہے مطلب کھلا ہوا ہے الف لام میم کا […]