خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد
کیا رد نہ کوئی سوالِ محمد بشر میں کہاں ہے مثالِ محمد جمالِ خدا ہے جمالِ محمد مجھے محو اس درجہ کر دے الہٰی رہے خواب میں بھی خیالِ محمد تمنا ہے یارب کہ اپنے رگ و پے بنیں رشتہ ہائے نعالِ محمد بشر کیا حقیقت سے ان کی ہو واقف خدا ہے خبردارِ حالِ […]