خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد

کیا رد نہ کوئی سوالِ محمد بشر میں کہاں ہے مثالِ محمد جمالِ خدا ہے جمالِ محمد مجھے محو اس درجہ کر دے الہٰی رہے خواب میں بھی خیالِ محمد تمنا ہے یارب کہ اپنے رگ و پے بنیں رشتہ ہائے نعالِ محمد بشر کیا حقیقت سے ان کی ہو واقف خدا ہے خبردارِ حالِ […]

مدینے جا کے بھی اب تو مدینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ

مجھے جاکر بھی دُکھ ہوگا مِری نظریں وہاں ڈھونڈیں گی جب کچے مکانوں کو نبی ء رحمتِ عالم کے سب اَنمٹ نشانوں کو کبھی جو دھوپ میں موجود تھے ،اُن سائبانوں کو بہار ِ بے خزاں کے مسکنوں ، سب گلستانوں کو درخشندہ مِری تاریخ کے سارے خزانوں کو حبیب ِ کبریا کے سارے حُجروں […]

مدینے کی زمیں بھی آسماں ہے

جو ذرہ ہے وہ مہر ضو فشاں ہے خدا کے بعد لے نام محمد محمد بھی خدا کے درمیاں ہے مدینے کا سفر اور اتنا آساں نہ جانے کون میر کارواں ہے تمنائے حضوری رکھنے والے یہ مہجوری بھی شاید امتحاں ہے زیارت گاہ محبوب خدا میں نظر بیتاب ہے دل شادماں ہے فرشتے ہوں […]

چھوڑ کر رونقِ بازار ‘ کوئی نعت کہو

چھوڑ کر رونقِ بازار ، کوئی نعت کہو ٹھیک ہو جاؤ گے بیمار ! کوئی نعت کہو اس طرح گھر کی اُداسی نہيں جانے والی کہہ رہے تھے در و دیوار ، کوئی نعت کہو مال و دولت سے یہ اعزاز کہاں ملتا ہے اے شفاعت کے طلب گار ! کوئی نعت کہو چاہتے ہو […]

مجھ پرِ کاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں

اسیرِ راہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں وہ جس نے ساری ہواؤں کے رُخ بدل ڈالے اسی نگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں جو دیکھ آتے ہیں اک بار جالیاں ان کی آرامگاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں وہ یارِ غار جو آقا پہ جان دیتا تھا رفیقِ شاہِ مدینہ کی بات کرتے ہیں جہاں […]

جس در سے سخا پاتی ہے دینے کا قرینہ

وہ شہر ، مدینہ ہے مدینہ ہے مدینہ اُمیدِ کرم عرصۂ ہجراں میں ہے اُن سے ساحل پہ کسی طور لگا دیں گے سفینہ خوشبو سے گل و لالہ و ریحان و سمن کی بڑھ کر ہے مرے شاہِ اُمم تیرا پسینہ تلوؤں سے ترے پائی ضیا خاکِ حرم نے ہر ذرۂ طیبہ ہے تبھی […]

مرکز و محورِ بندگی نعت ہے

بردۂ شوق کی زندگی نعت ہے حُسنِ احمد کی مدحت ہے رشکِ سخن رشکِ نطق و بیاں آپ کی نعت ہے صدقۂ مصطفیٰ رنگ و نکہت سبھی لالہ و گل کی سب دلکشی نعت ہے باغِ مدحت میں ہی سانس لیتا ہوں میں میرے ایمان کی تازگی نعت ہے اس کی تفسیر ہے سیرتِ مصطفیٰ […]

چشمِ نم آپ کا دیدار ہی مانگے جائے

دید کو حسنِ طرح دار ہی مانگے جائے سر خمیدہ ہے قلم اُس درِ اقدّس پہ میرا دولتِ مدحتِ سرکار ہی مانگے جائے نقشِ نعلینِ کرم بار پہ سر رکھنے کو بے خودی سنگِ درِ یار ہی مانگے جائے جذبۂ شوق مرا چشمِ بصیرت کے لیے خاکِ نعلینِ کرم بار ہی مانگے جائے اِس نے […]

رشک گاہِ جہاں خطۂ نور ہے

میں مدینے میں ہوں خواب مسرور ہے کاسۂ حرف میں مدح کا صدقہ دیں رو بہ رو نعت کے نطق معذور ہے بے طلب ہی عطاؤں کے ہیں سلسلے دوست یہ شہرِ آقا کا دستور ہے ہجر کے شہر سے بارِ عصیاں لیے آپ کے در پہ آیا یہ رنجور ہے حبِ آلِ نبی ہے […]

یہ کیسی نعت ہے پھر کیسے التزام کے ساتھ

خدا کا نام بھی شامل ہے اُن کے نام کے ساتھ میں ایسی ذات کی مدحت کروں تو کیسے کروں خدا نے نام لیا جس کا احترام کے ساتھ سعادتِ بشری کا وہ اسمِ اعظم ہیں تمام عظمتیں منسوب اُن کے نام کے ساتھ درود لب پہ مرے ہو جب اُن کا نام آئے حضورِ […]