آمد

صبحِ صادق کے دھندلکوں سے سحر جھانکتی تھی نور ہی نور تھا ، جس سمت نظر جھانکتی تھی ڈوبنے والے ستاروں سے فضا تھی روشن پرتوِ مہر کے آنے کی صدا تھی روشن آسمانوں پہ فرشتوں کے پرے پھرتے تھے اپنے دامن میں اجالوں کو بھرے پھرتے تھے ریگِ صحرا کو بھی شبنم نے بھگو […]

خوش رنگ ہیں نظارے مولود کی گھڑی ہے

آتے ہیں نور والے مولود کی گھڑی ہے جاؤں میں ان کے صدقے مولود کی گھڑی ہے عالم بنا ہے جن سے مولود کی گھڑی ہے آتے ہیں رب کے پیارے مولود کی گھڑی ہے بادل خوشی کے چھائے مولود کی گھڑی ہے رحمت کے جام چھلکے مولود کی گھڑی ہے ابر بہاراں برسے مولود […]

حقیقت کے رُوحِ رواں آ رہے ہیں

وہ فخرِ زمین و زماں آ رہے ہیں زمانے کے راحت رساں آ رہے ہیں کرم گسترو مہرباں آ رہے ہیں صداقت کے وہ ترجماں آ رہے ہیں شہنشاہِ کون و مکاں آ رہے ہیں – زمیں جن کے جلووں سے معمور ہو گی حیات آدمیت کی پُر نور ہو گی بدی دفعتاََ دہر سے […]

مصطفیٰ آئے ہیں لے کر رحمتیں ہی رحمتیں

اس وسیلے سے ہیں گھر گھر رحمتیں ہی رحمتیں رحمۃ للعالمیں ہیں سرورِ دُنیا و دیں اُن کے صدقے ہیں ، جہاں پر رحمتیں ہی رحمتیں بخششِ اُمّت کا وعدہ لے لیا اللہ سے کیوں نہ ہوں ہر اُمّتی پر رحمتیں ہی رحمتیں بزمِ میلادالنبی آراستہ کرنے کے بعد پا گئے اُن کے گداگر رحمتیں […]

قُربِ حق مانگوں نجاتِ غمِ دنیا مانگوں

میں سمجھتا نہیں کیا کیا شہِ بطحا مانگوں ڈوبتے دل کے لیے سایۂ محرابِ حرم بجھتی آںکھوں کے لیے گنبدِ خضرا مانگوں اپنے جینے کے لیے مانگوں میں صحنِ کعبہ اپنے مرنے کے لیے خاکِ مدینہ مانگوں عشق میں آپ کے بہتے رہیں میرے آنسو میں وہ قطرہ ہوں کہ مانگوں بھی تو دریا مانگوں […]

اس میں شامل ہے رضا و کرم عزوجل

ہر عبادت سے درود آپ کا اعلیٰ افضل آپ کے اسم سے ہیں لفظِ جہاں میں معنی ورنہ یہ دفترِ صد رنگ و نمو بس مہمل شفقتیں آپ کی ہر گوشۂ گیتی پہ محیط رحمتیں آپ کی دنیا پہ برستا بادل آپ کی دین سے دنیا کی شرف کو منزل ظلمتِ دہر میں ہیں آپ […]

یہ ہم لوگ ، وہ چاند تارے ترے

یہ نظریں تری ، وہ نظارے ترے بیاباں بیاباں ترا آسرا سمندر سمندر سہارے ترے کل انسانیت کو ہے تجھ سے شرف سب اخلاقِ انساں سنوارے ترے ہمیں حق نما ہے تری ذاتِ پاک ہیں ارکانِ دیں استعارے ترے تری مہربانی زماں در زماں کوئی کیسے احساں اتارے ترے نہیں ڈر ہمیں کوئی منجدھار سے […]

اے میری حیات کے سہارے

دل تیرے سوا کسے پکارے تو نورِ ازل کا رازداں ہے تو مہر و وفا کی داستاں ہے تو قلبِ گداز میں مکیں ہے مومن کی حیات کا یقیں ہے پھر بھٹکے ہوؤں کو روشنی دے انساں کو شعورِ بندگی دے پھر تجھ سے عطا کی بھیک مانگوں اُمت کی شفا کی بھیک مانگوں آدابِ […]

منزلِ حق کی جستجو تم ہو

ایک عالم کی آبرو تم ہو گلشنِ صدق و آگہی کے امیں مردِ مومن کی زندگی کا یقیں عزم و ایماں کی بولتی تصویر دینِ کامل کی آخری تحریر قلبِ یزداں میں نورِ تابندہ لوحِ ہستی پہ حرفِ رخشندہ ظلم کی آندھیوں میں ابرِ کرم جہل کی ظلمتوں میں نورِ حرم تجھ کو اے شاہِ […]

لطف سے پیرِ مغاں دے پھر کوئی ساغر مجھے

مست کر دے تا خیالِ ساقیٔ کوثر مجھے روضۂ حضرت کا شوقِ دید ہمدم کچھ نہ پوچھ اُڑ کے میں فوراََ پہنچ جاتا جو ملتے پر مجھے بے نیازِ فرشِ محمل ہوں ، گدائے شاہ ہوں خاکِ یثرب کا فقط درکار ہے بستر مجھے فوقؔ اندیشہ نہیں روزِ قیامت آ تو لے بخشوا لیں گے […]