حدِ خرد سے ماورا اُس کے کمال کا حساب

روزِ اول ہی جو ہوا ، خالقِ کُل کا انتخاب رازداں سے باخبر لوح و قلم کا کارواں دیکھا نہ جس نے مدرسہ ، اس پہ نزولِ الکتاب مالکِ کُل نے ایک شب اپنے حبیبِ پاک کو خود ہی بلا کے عرش پر ، توڑ دئیے سبھی حجاب تا نہ ہوا زمین پر اُس مہِ […]

حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِ خدا

یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِ خدا دو طفل مردہ کر دئیے زندہ حضور نے معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِ خدا ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِ خدا مقبولِ بارگاہِ الہیٰ ہے وہ بشر پائی ہے جس نے صحبتِ پیغمبرِ خدا ہر گل چمن میں طبلۂ عطار بن گیا پہنچی […]

سوئی قسمت کو بہ ایں طور جگاتا آقا

مصحفِ زیست کو مدحت سے سجاتا آقا کارِ توصیف سےبنتی ہے ہر اک بات مری اور کوئی مجھ کو ہنر بھی نہیں آتا آقا یہ فقط نسبتِ نوری سے ہوا ہے افضل اخضری رنگ جو نظروں کو ہے بھاتا آقا خواہشِ دیدِ حرم بہتی ہے جب آنکھوں سے نقشِ نعلین ہوں آنکھوں سے لگاتا آقا […]

اُن سے کرتا ہوں کربِ ہجر بیاں

روز دیتا ہے میرا عشق اذاں مخزنِ لطف ہے وہ شہرِ کرم جس کے صدقے بنے ہیں کون و مکاں حکمِ لَاتَرْفَعُوا کی جا ہے یہی شور اُن دھڑکنوں کا روک یہاں ہالۂ نور میں ہے شہرِ نبی سبز گنبد ہے دیکھ نور فشاں خواہشِ دید پیش کیسے کروں دل لرزتا ہے مثلِ برگِ خزاں […]

قصرِ خلد اپنے لیے اس طرز سے تعمیر کر

بھیج کچھ تحفے درودی نعت کی تدبیر کر خواب میں پیشِ مدینہ خود کو دیکھا تھا شہا کرنے والے اب مرے اس خواب کی تعبیر کر کشورِ نظم و غزل پر حکمرانی کے لیے نعت کی تمہید سے شہرِ سخن تسخیر کر جگمگاتا نورِ عشقِ مصطفٰی پاؤ گے تم جب بھی چاہو دیکھ لو قلبِ […]

وہ بے سایہ ہیں اور سایہ ہے اُن کا سب جہانوں میں

شبِ اسری وہی جلوہ نما تھے آسمانوں میں بہ صد شوق آ پڑا ہوں آپ کے دربارِ عالی پر وسیلہ آپ کا درکار ہے دونوں جہانوں میں جھکا جاتا ہے دل سجدے میں کیف و لطف کے باعث اذانِ عشق کی آئے صدا جب میرے کانوں میں سراہیں جس قدر قسمت کو اپنی اس قدر […]

نقشِ اسمِ مصطفیٰ پر میں فدا ہوتا رہا

اور نزولِ نعت مجھ پر بے بہا ہوتا رہا آیۂ فَلْیَفْرَحُوْا کے مُتَّبِع جو بھی رہے مقصدِ تخلیقِ جاں اُن کا ادا ہوتا رہا سطوتِ شاہی کو چھوڑا اُس نے پھر اک شان سے جو شہنشاہِ مدینہ کا گدا ہوتا رہا نعت گوئی ہے سعادت زورِ گفتاری نہیں یہ کرم جس پر ہوا ، ہوتا […]

خیالِ شہرِ کرم سے یہ آنکھ بھر آئے

جو عکسِ گنبدِ اخضر کہیں نظر آئے مچل کے ہجر کے بندے کا دل کرے فریاد کرم ہو کاسہ بہ کف آپ کے نگر آئے بس ایک میم ہی لکھا تھا بہرِ نعتِ نبی حروف جیسے ورق در ورق نکھر آئے دعاے خیر تھی ڈھارس جو عشق کے بندے پُلِ صراط سے اک جست میں […]

نور کی ڈور سے ہم لعل و گُہر باندھتے ہیں

مصرعِ نعت بہ صد شوق اگر باندھتے ہیں بر سرِ عرش نہ کیوں شادی رچے، آج کہ آپ جانبِ قصرِ دنیٰ رختِ سفر باندھتے ہیں ہے رسد گنبدِ خضریٰ سے شب و روز اُنھیں روشنی کا جو سماں شمس و قمر باندھتے ہیں ٹکٹکی آپ کے دربار کی جالی پہ شہا بہرِ دیدار مرے دیدۂ […]

اُنگشت بہ دنداں ہیں فصیحانِ زمانہ

ایسا ہے لبِ یوحٰی کا انداز یگانہ گر خواب میں آجائے وہ من موہنی صورت پھر نیندسے جاگے نہ کبھی اُن کا دوانہ اُس خاکِ مدینہ کے ہی صدقے یہ نسب ہے نسبت میں ترابی ہوں یہی میرا خزانہ ایقان ہے محشر میں ملے گی مجھے بخشش اور مدحِ شہِ کون و مکاں ہو گی […]