کشتِ عمل ہے بے ثمر ، مزرعِ دل ہے بے نُمو

میرے کریم ہو عطا بارشِ ابرِ عفو خُو بامِ شبِ خیال پر چمکے نویدِ ماہِ نَو سوزنِ خوابِ وصل سے ہجر کے چاک ہوں رفُو شہرِ سخن میں پے بہ پے تیری عطا کی بارشیں موسمِ دل میں عام ہیں تیری ثنا کے رنگ و بُو اوجِ فضائے نُطق میں اذن و عطا کی تازگی […]

معدنِ لطف سے ، انعام سے وابستہ ہیں

للہِ الحمد ! ترے نام سے وابستہ ہیں دیکھ لیں گے سرِ محشر وہ تری شانِ کرم جو زیاں کار بھی ابہام سے وابستہ ہیں موجۂ اذن سے کُھلتا ہے چمن زارِ سخن سلسلے نعت کے الہام سے وابستہ ہیں ہم پہ لازم ہے ابھی ترکِ خیالِ دیگر ہم ابھی نعت کے احرام سے وابستہ […]

گفتۂ حضرتِ حسان کی تقلید میں ہیں

نعت گو سارے کے سارے صفِ تائید میں ہیں نعت کے نُور سے اُبھریں گے بہ اوجِ طلعت جو ہیولے مرے افکار کی تسوید میں ہیں جس کے ما بعد ہی کُھلتی ہے کتابِ مدحت حرف کے جملہ محاسن اُسی تمہید میں ہیں خوف کیا گرمئ خورشیدِ قیامت کا کہ ہم سایۂ گیسوئے والیل کی […]

نمائشِ نیاز میں نہ خواہشِ فراز میں

لکھی ہے نعت محضرِ نجات کے جواز میں شکستہ خواب کو ترس ، گزشتہ یاد میں تڑپ طلَب کا اندمال ہے طلَب کے ارتکاز میں جمال ، تیری شوکتِ کرم کا ریزہ چینِ خیر کمال ، مجتمع ہے تیری شانِ امتیاز میں زمانہ حیرتی ترے تحیرِ جمال کا ٹھہر گیا ہے وقت تیرے عصرِ دلنواز […]

بے ہُنر ہو کے واہ واہ میں ہیں

جو تری نعت کی پناہ میں ہیں جس کو زیبا ہے شانِ دلداری اُس نگہ دار کی نگاہ میں ہیں آس میں اور اُس سے وابسطہ گرد ہیں اور اُس کی راہ میں ہیں نقشِ نعلین سے ہیں تابندہ شوخیاں جتنی مہر و ماہ میں ہیں ایک نسبت کی ہے طرفداری خام خُو بھی حصارِ […]

بے سبب مہکا نہیں ہے خانۂ آزردگاں

دل کے صحرا میں آئی بادِ کوئے مہرباں مطمئن ہے قاصرِ نقدِ عمل ، تو کیا عجب تیری رحمت بے تعطل ، تیری بخشش بیکراں ہو نہیں سکتا تعین جاں سے بڑھ کر قُرب کا معنئ تمثیلِ اَولیٰ ، مہبطِ حذبِ نہاں ! ارضِ طلعت زار پر ہے روشنی ہی روشنی پائے زائز سے لپٹتی […]

ہے کیا مری مجال میں ، ہے کیا مری بساط میں

ترے کرم سے ہُوں شہا ! ثنا کے انضباط میں ابھی تو اذنِ حرفِ نعت بھی عطا ہُوا نہیں ابھی سے ہے خیال خَم حریمِ احتیاط میں وہ بارگاہِ ناز کس قدر کرم نواز ہے ! دُعا ہے انبساط میں ، عطا ہے انبساط میں وہ نام واسطہ ہے صوتِ دل کے انسلاک کا وہ […]

غیر کے بیش سے مطلب ہے نہ کم مانگتے ہیں

صاحبِ خیر و عنایات سے ہم مانگتے ہیں خوار ہوں کیوں کسی محدود تمنا کے سبب مالکِ جملہ نِعَم ! جملہ نِعَم مانگتے ہیں ہم کو ہونا ہے نہاں خانۂ جاں سے روشن ہم کفِ دل پہ ترا نقشِ قدم مانگتے ہیں سطوت و عزت و عظمت کے حوالے یکسر درگہِ ناز سے خیراتِ حشَم […]

ہے خام و خجل خستہ خیالی ، مرے سائیں

ممکن ہے کہاں مدحتِ عالی ، مرے سائیں امکان سے باہر ہی رہی مدح سرائی تدبیر نے جو طرح بھی ڈالی ، مرے سائیں حاضر ہیں ، بصد عجز ، ترے شہرِ کرم میں مَیں اور مرا دامنِ خالی ، مرے سائیں بہہ جاؤں کسی روز کسی سیلِ طلب میں اور دیکھوں ترے روضے کی […]

نہ جوازِ گنبدِ سبز میں ، نہ دیارِ گنبدِ سبز میں

مری ہجر زاد مسافتیں ہیں مدارِ گنبدِ سبز میں وہی تازگی کی نمود ہے ، وہی زندگی کا شہود ہے وہ جو سبزگی سی رواں رواں ہے بہارِ گنبدِ سبز میں کوئی ہست اُس سے جُدا نہیں ، کوئی بُود اُس سے ورا نہیں کہ یہ ممکنات کے سلسلے ہیں حصارِ گنبدِ سبز میں کوئی […]