حرف میں ، صوت میں آ ، ذوق میں ، وجدان میں آ

اذنِ اظہار عقیدت مرے امکان میں آ جَل اُٹھیں بامِ تمنا پہ تکلُم کے چراغ لمعہَ مدحِ نبی ! نطق کے ارمان میں آ مَیں گدائے درِ توصیف تہی داماں ہُوں مدحتِ شاہِ دو عالَم ! مرے سامان میں آ توشہَ اسمِ سکینت بہ نویدِ بخشش بہرِ اعجازِ شفاعت مری میزان میں آ لے کے […]

بیاں ہو کس طرح شان رسالت

تجھے حاصل ہے نبیوں پر فضیلت ہے تو ہی آخری رہبر جہاں کا ہوئی ہے تجھ پہ تکمیلِ نبوت مکمل ہو گیا دین تجھ پر کیا اللہ نے اتمام نعمت جہاں میں کوئی بھی تجھ سا نہیں ہے تیری ہی ذات ہے شہکار قدرت ہر اک منظرمیں تجھ سے دلکشی ہے ہوا ہے تجھ سے […]

میسر جو نہیں مجھ کو یہاں اِملاک لے آنا

مدینے کی گلی سے تُم، اُٹھا کر خاک لے آنا مِری تسبیح بن جائے گی ، موتی کام آئیں گے بچا لینا کچھ آنسو ، دیدۂ نم ناک لے آنا لگایا تھا نبی نے جو کبھی ، خود اپنے ہاتھوں سے جو ممکن ہوتو ، تم اس پیڑ کی مسواک لے آنا مجھے بھی اِن […]

کھلا بھید خیر الوریٰ کہتے کہتے

ہوا میں فنا مصطفیٰ کہتے کہتے مرے منہ سے آنے لگی بوئے نافہ تری زلف کو مُشک سا کہتے کہتے گئے آدم و شیث و موسیٰ و عیسیٰ تجھے خاتم النبیاء کہتے کہتے شعائیں ہوئیں میری باتوں سے پیدا ترے منہ کو شمس الضحیٰ کہتے کہتے زیادہ ہوئی عقلِ کل کی بصیرت تری شان میں […]

معراج نامہ

اللہ اللہ بایں اوج مقامِ محمود یعنی وہ راکبِ براق چلا سوئے ودود وہ ملائک جو ازل ہی سے رہے وقفِ سجود پئے تعظیم کھڑے ہو گئے سب پڑھ کے درود اسکی توصیف و ستائش میں قلم بہنے لگا خالق کون و مکاں(ج) صلِّ علی کہنے لگا — حکم باری ہوا ہم آج بلاتے ہیں […]

کوئی ہے مومن کوئی ہے ترسا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

عجب طرح کا ہے یہ تماشہ خدا کی باتیں خدا ہی جانے کوئی جو سمجھے تو کیسے سمجھے بہت بڑے ہیں غضب کے دھوکے کہیں ہے بندہ کہیں ہے مولیٰ خدا کی باتیں خدا ہی جانے کہیں انا الحق وہ آپ بولا فقیر بن کر یہ بھید کھولا کہیں بنا ہے وہ آپ بھولا خدا […]

ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ

آفاق کو تو نے گھیر لیا اے نور محمد صلی اللہ دکھلا کے چمک بالائے فلک آدم کو کیا مسجود ملک موسیٰ کو بنایا انی انا اے نور محمد صلی اللہ تو سب میں نہاں سب تجھ سے عیاں ہے تیرے لئے یہ کون و مکاں باہر ہے بیاں سے تیری ثنا اے نور محمد […]

کیا رُخِ سیدِ ابرار ہے اللہ اللہ

ہر طرف جلوۂ دیدار ہے اللہ اللہ جب سے نرگس کو نظر آئی ہے وہ چشمِ سیاہ جوشِ آشوب سے بیمار ہے اللہ اللہ خاک پاک قدمِ پاکِ رسولِ عربی سرمۂ دیدۂ بیدار ہے اللہ اللہ کیوں نہ خلد میں مسجودِ ملائک آدم عاشقِ احمدِ مختار ہے اللہ اللہ گر جز لیں وہ تو ہر […]

فانی ہوا میں عشقِ رسالت مآب میں

گم ہو کے روزِ حشر نہ آیا حساب میں کیونکر چھپائیں منہ کو وہ کُن کی نقاب میں کرتی ہے رخنہ حسن کی شوخی حجاب میں احمد کہوں ادب سے انہیں یا کچھ اور ہی ڈالا ہے مجھ کو دل نے عجب اضطراب میں آتا ہے ان کے دیکھنے والوں کو غش پہ غش ہر […]

سلام میں نے پڑھا ہے رسول کے در پر

قبول ہونے لگا ہے رسول کے در پر میں منتظر ہوں بلاوے کا، جانتا ہوں مگر یہ حاضری بھی عطا ہے رسول کے در پر مجھے یقین ہے ان کے کرم کے باعث ہی مجھے بلایا گیا ہے رسول کے در پر مرے خدا کی یہ مجھ پر بڑی عنایت ہے نعم کا خوان کھلا […]