صد شکر ذوق وشوق سے کہتے ہیں نعت ہم

کرتے ہیں عشقِ سرورِ عالم کی بات ہم اے کاش ! کہہ سکیں درِ اقدس کے سامنے آقا ! فراق کی بھی گزار آئے رات ہم احساس کی زبان عطا ہو تو کر سکیں اشعار میں بیان دلی کیفیات ہم نعتوں میں ہجرِ طیبہ کا آہنگ آگیا کرنے چلے تھے عرض نئے کچھ نکِات ہم […]

نورِ احمد کی اُس دم ہوئی گفتگو

جب کہ لوح و قلم کی نہ تھی گفتگو کنزِ مخفی ہی تھا میرا رب جس گھڑی تھی فضا میں محمد کی ہی گفتگو آپ اُس وقت بھی منبرِ حق پہ تھے جب عوالِم میں گونجی نہ تھی گفتگو سارے نبیوں سے آقا کی بابت ہوئی میرے اللہ کی خوب ہی گفتگو اپنے اپنے زمانے […]

مجھے بھی یاد ہے وہ دن کہ جب میں شاداں تھا

فضائے طیبہ میں کچھ ساعتوں کا مہماں تھا خوشا کہ میں بھی مدینے کی خُلد میں پہنچا جہاں پہنچنے کا مدت سے دل کو ارماں تھا خوشا کہ گنبدِ خضرا کی ضو نگاہ میں ہے ابھی تلک تو مرا خواب ہی درخشاں تھا سلام کرتا تھا آنکھوں سے اُن فضاؤں کو کہ جن فضاؤں میں […]

بابِ جبریل کھلا ہے مرے دل پر اب تک

دیکھتی رہتی ہیں آنکھیں وہی منظر اب تک صبر کی سِل کے تلے آہ کی چنگاری ہے ہجرِ طیبہ میں ہے دل سینے سے باہر اب تک منتظر ہوں کرمِ سیدِ کونین کا میں مانگتا رہتا ہوں توفیق کا شہپر اب تک جب سے اُمت ہوئی اخلاصِ عمل سے محروم مامنِ خیر بنا ہے نہ […]

خوشاکہ دل کی ہے بس ایک ہی طلب شب و روز

بسر ہوں کاش مدینے میں میرے اب شب و روز قبائے اُسوۂ سرکار جب ملے گی تجھے بہار زیست کی دکھلا سکیں گے تب شب و روز خیال طوفِ مدینہ پہ جب ہوا مائل شمیم یاد کی دینے لگے عجب شب و روز دل و نگاہ کو پاکیزگی کی بھیک ملے تو ہے یقین بنیں […]

شق ہو قمر اور سورج پلٹے حکم نبی جب ہو جائے

پیڑ جھکے اور پتھر بولے حکم نبی جب ہو جائے اسماعيل نے ایڑی رگڑی تب جا کر زمزم نکلا ہاتھ میں انکے کوثر چھلکے حکم نبی جب ہو جائے جابر کے بچوں کو دوبارہ جان انہیں نے بخشی ہے روح بدن میں واپس لوٹے حکم نبی جب ہو جائے یوں تو دنیا لڑتی ہے برچھی […]

متن میں ہو جو ذکرِ نبی ضوفشاں

خود ہی ہو جائے گی شاعری ضوفشاں عرشؔ* نے شعر کہنے کی ترغیب دی آمدِ مدحِ آقا ہوئی ضوفشاں دھیان طیبہ کی جانب گیا جب مرا ہو گیا قریۂ قلب بھی ضوفشاں اُن کی آمد سے پہلے اندھیرا ہی تھا وہ جو آئے تو دنیا ہوئی ضوفشاں ایک نقشِ نُخستیں کی تنویر سے بزمِ کونین […]

ہو لیلائے جاں کا جو محمل حضوری

ہمیشہ رہے دل کو حاصل حضوری عطا ہو کبھی حاضری کا وہ لمحہ کرے میرے دل کو بھی بسمل حضوری رہا کلبِ دنیا پراگندہ خاطر ہوئی حاضری میں بھی مشکل حضوری شریعت کا سرمایہ، طیبہ نصیبی حقیقت کا جوہر ہے کامل حضوری مکاں سے مکیں تک رسائی ہے ممکن بنے زائروں کی جو منزل حضوری […]

اُسوۂ ختم الرُّسُلْ سے جب ہو محکم رابطہ

دعویِ حُبِّ نبی ہو تب مجسّم رابطہ سرورِ کونین کی اُلفت کا یہ فیضان ہے سبز گنبد سے تصور میں ہے پیہم رابطہ لفظ تو طیبہ میں لب پر آ نہیں پائے مگر بن گئی دربار میں اشکوں کی شبنم رابطہ آپ ہی تخلیقِ اوّل آپ ہی نورِ مبیں آپ ہی مابینِ خالق اور آدم […]

ان فضاؤں میں جسد ہے روح کب موجود ہے

دل کو طیبہ کی فضاؤں کی ہے پیہم جستجو روح میری روضۂ اقدس پہ ہے مدحت سرا کررہا ہے پیش دل میرا وہ حرفِ آرزو جس میں ہے ارضِ مدینہ میں سما جانے کاشوق جس میں ہجرِ مصطفی کے درد کی ہے گفتگو کاش یہ کیفیّتِ قلب و نظر قائم رہے تادمِ آخر تمنّا ہو […]