ترے خواب کی راہ تکتی ہیں آنکھیں
غمِ ہجر میں ہی برستی ہیں آنکھیں بصارت ، بصیرت انہی کی فزوں تر ترا سبز گنبد جو تکتی ہیں آنکھیں سمائے ہوں جن میں مدینے کے جلوے تو ایسی بھلا کب بھٹکتی ہیں آنکھیں مجھے یاد آتی ہیں طیبہ کی گلیاں تو بے ساختہ پھر چھلکتی ہیں آنکھیں تری یاد سے جن کے روشن […]