اردوئے معلیٰ

Search

تعلق جب نظر کا سبز گنبد سے ہوا تھا

عزیزؔ احسن عجب انداز سے مدحت سرا تھا

 

زباں خاموش، لب جنبش سے عاری تھے مگر دل

مسلسل عرضِ حال، اُس بار گہ میں کر رہا تھا

 

زباں اشکوں کو اُس دربار میں ایسی ملی تھی

تمنّا کا دیا ہر اشک میں روشن ہوا تھا

 

مجھے ہر سمت سے خوشبوئے شفقت آ رہی تھی

خیالِ اجنبیت ذہن و دل سے مٹ گیا تھا

 

سروں پر نور و نکہت کی عجب چادر تنی تھی

ہر اِک سینے پہ دستِ مہرباں گویا دھرا تھا

 

مسلسل آیۂ جَآوٗکَ ہی یاد آ رہی تھی

سنہری جالیوں کے سامنے جب میں کھڑا تھا

 

عزیزؔ احسن مرے دل نے سکوں اس طرح پایا

کہ جیسے میرے عصیاں کا لبادہ دھل گیا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ