اکرم و اطہر اسمِ محمد

دہر کا سرور اسمِ محمد ہادی اور سردار وہی ہے اعلٰی اور سرکار وہی ہے اور ہم کو درکار وہی ہے رحم کا محور اسمِ محمد دہر کا سرور اسمِ محمد رحم کا ہر گُل اس سے مہکا درد کے مارے ہُوؤں کا ماوا حامیء عامی کملی والا حلم سراسر اسمِ محمد دہر کا سرور […]

آمدِ مرسلِ مرسلاں سے ہوئی

سارے عالم کے ادراک کو آگہی اہلِ عالم کی دائم دعا کی سعی اس کی آمد سے معمور ہو کے رہی مہر و علم و عطا کو ہو لاکھوں سلام مہکی مہکی ہے عالم کی ہر اک گلی وہ ہے رحم و کرم وہ عطا ہی عطا سارے درد و الم کا مداوا وہی اس […]

مری مراد مرا مدّعا محمد ہے

کرم کے آسروں کا سلسلہ محمد ہے سکُوں کے واسطے آؤ گداگرو آؤ ہمار آسرا اور حوصلہ محمد ہے ہمارا حامی و ہمدرد ہے رسول اللہ ہمارا ورد ہی صّلِ علٰی محمد ہے اسی کے رحم و کرم سے اماں ہوئی حاصل دکھی دلوں کے لئے آسرا محمد ہے دھڑک دلوں کی ، دہاں کا […]

اسی در کا ہی گدا ہوں اسی در کی ہے گدائی

وہی در ہی آسرا ہے مری عمر کی کمائی وہی در ہوا ہے عالی اسی در کا ہوں سوالی اسی در کا ہو کھڑا ہوں لئے کاسئہ گدائی وہی درد کا ہے درماں ہوا لاکھ اسکا احساں وہی ہر الم کا رد ہے وہی درد کی دوائی اسی اسم کی ولا ہے اسی اسم کی […]

مرے مولا آئے لئے کملی کالی

وہ سارے سہاروں کے مالک وہ والی اسی کی عطا ہے وہی آسرا ہے وہی در ہے اعلیٰ وہی در ہے عالی ہے کاہے کا ڈر اور کاہے کا کھٹکا وہ مولا وہ مالک وہ حامی وہ والی دکھی دل کا اک آسرا ہے محمد دکھی دل کی ساری اداسی ہے ٹالی دلارِ الٰہی کرم […]

مرسلِ مرسلاں المدد المدد

مہر کے آسماں المدد المدد اہلِ دل کو عطا ہو کرم اے رسول ہے صدائے رواں المدد المدد اسمِ احمد دوا ہے ہر اک درد کی اک ہے وردِ لساں المدد المدد درد کو حوصلہ رحم کا آسرا اے اماں کی اماں المدد المدد اے رسولِ الٰہی عطا ہو کرم سرورِ سروراں المدد المدد اے […]

ہم سے عاصی لوگوں کو آسرا محمد کا

واسطے سہارے کے در کھلا محمد کا سلسلہ کرم کا وہی مدعا حرم کا وہی ہر ملولِ عالم کو آسرا محمد کا ہم کو ڈر ہے کاہے کا اور ملال کا ہے کا ورد اک لساں کے واسطے ہے سدا محمد کا ہر کلام اعلیٰ ہے ہر کلام اکرم ہے اس لئے کہا کھل کر […]

محورِ مہر کہوں راحمِ اعدا لکھوں

دہر کے راہِ عمل کا اسے اسوہ لکھوں اس کو اعلیٰ کہوں اور سائرِ اسریٰ لکھوں اور اللہ کے دلدار کا سہرا لکھوں اس کو والی کہوں مالک کہوں حاکم لکھوں کملی والا کہوں ہادی کہوں مولا لکھوں سارے عالم کا مددگار ہے اسمِ احمد درد کے مارے ہوئے لوگوں کا ماوا لکھوں اس کو […]

قلم پہ جب بھی مرے نعت اتار دیتا ہے

مرے سخن کی وہ پلکیں سنوار دیتا ہے یہ میری ناؤ کبھی ڈوبنے جو لگتی ہے کرم پھر آپ کا اس کو ابھار دیتا ہے غموں کے دشت میں جب بھی کبھی بھٹکتا ہوں خوشی کی بارشیں مجھ پر اتار دیتا ہے درودِ پاک ہے کچھ ایسے حالتِ غم میں کہ جوں تسلی کوئی غمگسار […]

برستی ہیں جو عشقِ احمدِ مرسل میں دو آنکھیں

تو اُن کے آگے کیا ہیں ابرِ دریا بار کی باتیں سوائے نامِ شاہِ انبیاء نام آئے گا کس کا اگر ہوں رب کے سب سے خوشنما شہکار کی باتیں اذانیں گونجتی ہیں جس سے طیبہ کی فضاؤں میں سناؤ مسجدِ نبوی کے اس مینار کی باتیں درِ سرکار سے اِک بار جو ہو جائے […]