ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چاہیے کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہیے آپ کو علم ہے ہم کو کیا چاہیے اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور ہر قدم پہ کرم آپ کا چاہیے آستان حبیب خدا چاہیے اور کیا ہم کو اس کے سوا چاہیے آپ اپنی غلامی کو دے دیں […]