جو مدینہ ہم بھی جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

وہیں راہ بھُول جاتے تو کچھ اور بات ہوتی میری زیست کے عناصر درِ مصطفی پہ چل کر میرا ساتھ چھوڑ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی یہ ہوا کے مست جھونکے جو ارم سے آرہے ہیں یہی طیبہ ہو کے آتے تو کچھ اور بات ہوتی یہ ستاروں کا تبسّم ہے نظر نواز لیکن […]

میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں، اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے، ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں آنے والی ہے ان کی سواری، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے، میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے اپنی آنکھوں کی […]

مجھے در پہ پھر بُلانا مدنی مدینے والے

مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے بنے دل ترا ٹھکانا مدنی مدینے والے تری جب کہ دید ہوگی جبھی میری عید ہوگی مرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے مجھے سب ستا رہے ہیں مرا دل دُکھا رہے ہیں تمھیں حوصلہ بڑھانا مدنی مدینے والے مرے […]

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے جسے چاہے اس کو نواز دے، یہ درِ حبیب کی بات ہے جسے چاہا در پہ بلا لیا ،جسے چاہا اپنا بنا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے وہ بھٹک کے رَاہ میں رِہ گئی، یہ […]

بستی بستی قریہ قریہ آنا جانا اچھا ہے

کوچہ کوچہ نعت نبی کے شعر سنانا اچھا ہے کام جو گھر گھر جھاڑو پوچھا کرنے کا مل جائے ہمیں شہر مدینہ کو جانے کا یہ بھی بہانہ اچھا ہے خانہ کعبہ میں جیسے بھی گزریں اپنے شام و سحر ان کی گلی میں ان کے در پر ہوش میں آنا اچھا ہے ویسے تو […]

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

سب سے بالا و والا ہمارا نبی اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی بزم آخر کا شمع فروزاں ہوا نور اوّل کا جلوہ ہمارا نبی سارے اچھوں میں اچھا سمجھے جسے ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو ! کیا نبی ہے تمھارا […]

وجۂِ ارض و سماوات کی بات ہے

کیا ہے قرآں؟ فقط نعت کی بات ہے پڑھ کے دیکھو کبھی سیرتِ مصطفیٰ ہر طرف بس کمالات کی بات ہے آپ کے ہی کرم کا ہے ہر سُو بیاں آپ کی ہی عنایات کی بات ہے سب سے پہلے بنایا گیا ان کا نور مستند یہ روایات کی بات ہے ذکرِ میلاد ہے در […]

بشر رسول کا جو نعت خوان ہو جائے

زمین بخت بشر آسمان ہو جائے مری نگاہ میں وہ بخت کا سکندر ہے جسے نبی کا بہم آستان ہو جائے بیاں ہو ڈھنگ سے گر اسوۂ رسول امیں تو شش جہات میں امن و امان ہو جائے سفینہ زیست کا ہرگز نہ ڈگمگائے گا نبی کا عشق اگر بادبان ہو جائے رسول جسکی طرف […]

قطرے سے کہاں ممکن توصیف سمندر کی

ہو کیسے رقم مجھ سے اب نعت پیمبر کی ہے چشم عطا مجھ پر یہ خالق اکبر کی جاری میرے ہونٹوں پر نعت شہہ قنبر کی اک دم سے مہک اٹھی، پرنور ہوئی محفل جب بات چلی تیرے گیسوئے معنبر کی خوشبوئے شہہ والا آنے لگی کاغذ سے لکھی جو سر کاغذ مدحت علی اکبر […]

نبی کو مظہر اوصاف داور جانتے ہیں

ہم ان کے نقش پا کو اپنا رہبر جاتے ہیں محمد کس سے راضی اور کس کس سے خفا تھے یہ اہل بیت احمد سب سے بہتر جانتے ہیں غلامئ شہہ بطحا میں کیا کیا رفعتیں ہیں جناب بوزر و سلمان و قنبر جانتے ہیں پئے حاجت روائی ہم غلامانِ محمد ہیں جسے چودہ دروازے […]