جو مدینہ ہم بھی جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
وہیں راہ بھُول جاتے تو کچھ اور بات ہوتی میری زیست کے عناصر درِ مصطفی پہ چل کر میرا ساتھ چھوڑ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی یہ ہوا کے مست جھونکے جو ارم سے آرہے ہیں یہی طیبہ ہو کے آتے تو کچھ اور بات ہوتی یہ ستاروں کا تبسّم ہے نظر نواز لیکن […]