واحسن منک لم ترقط عینی

واحسن منک لم ترقط عینی واجمل منک لم تلد النساء خلقت مبرائُ من کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء ترجمہ پیارے آقا ان آنکھوں نے تجھ سے زیادہ حسین و جمیل کسی کو نہیں دیکھا اور تجھ سے زیادہ کامل کسی ماں نے نہیں جنا، آپ ہر عیب اور نقص سے پاک پیدا فرمائے […]

اے وجہِ تب و تابِ جہاں روحِ دو عالم

اے کاشفِ اسرارِ نہاں صلِ وسَلَم اے صاحبِ الطاف و کرم والیٔ کونین بھیگے ہیں کئی بار تری یاد میں دو نین بہتی ہے رگوں میں تری چوکھٹ کی غلامی سینے میں دھڑکتا ہے ترا اسمِ گرامی دے عطرِ مضامینِ منور مجھے شاہا لکھنا ہے محبت سے ترا نور سراپا دستار کے ہر پیچ میں […]

رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

در پر دید کی پیاسی آنکھیں دھر جاتا ہے موت کو سچی مات سے واقف کر جاتا ہے آقا کی ناموس پہ جس کا سر جاتا ہے گردِ نعالِ شاہِ امم کا تحفہ پا کر کاہکشاں کا چہرہ خوب نکھر جاتا ہے سخت کٹھن ہے دو دھاری تلوار پہ چلنا قلم سے لرزه اور نہ […]

تھم گیا عالمِ دنیا کا چلن پل بھر میں

عازمِ عرش ہوئے شاہِ زمن پل بھر میں جلوۂ شاہ میسر ہو لحد میں جس دم آنکھ بن جائے مرا سارا بدن پل بھر میں وہ بھی اوصاف محمد کے بیاں کرتا ہے جس نے تخلیق کئے کوہ و دمن پل بھر میں جیسے ہی نعت مری نوکِ زباں پر آئی ہو گئی رحمتِ حق […]

ربیعِ اول میں موسموں کے نصاب اترے

ترستے صحراؤں میں شگفتہ گلاب اترے نعالِ شاہِ امم کا لمسِ منیر پانے حرا کی آغوش میں کئی ماہتاب اترے ہماری آنکھوں میں یادِ بطحا کا نور چمکا کنارِ مژگاں برسنے والے سحاب اترے ہزاروں قدسی زمیں پہ بیٹھے تھے پر بچھائے رکابِ قصویٰ سے جس گھڑی آں جناب اترے جھکایا سر میرے خام خامہ […]

چراغِ نعت سے تاریکیاں تنویر کرتا ہوں

حریمِ دل سجانے کی یہی تدبیر کرتا ہوں فرشتے بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں، جس لمحے شہِ ہر دو سرا کا ذکرِ پر تاثیر کرتا ہوں خوشی سے جھومنے لگتے ہیں قرطاس و قلم میرے میں جب اسمِ شہِ کون و مکاں تحریر کرتا ہوں تخیل میں جبینِ شوق رکھ کر ان کی […]

دیارِ نور کا ہر بام و در مطاف کیا

قدم قدم پہ مرے عشق نے طواف کیا جبینِ خامہ نے سجدے نثار کرتے ہوئے حروفِ نعت کو قرطاس کا غلاف کیا ورودِ یادِ شہِ دو جہان سے پہلے مشامِ جان میں خوشبو نے اعتکاف کیا پھرایا شمس کو واپس برائے مولا علی قمر کو ایک اشارے سے شین قاف کیا کرم ہے ان کا […]

طیورِ فکر جو ان کے خیال تک پہنچے

ہمارے رنج و الم عرضِ حال تک پہنچے سجائے ہجرِ مسلسل نے نعت کے مصرعے براہِ مدحتِ سرور وصال تک پہنچے مرے کریم نے حاجت روائی پہلے کی یہ ہونٹ بعد میں حرفِ سوال تک پہنچے حسِین ہو گی ستاروں کی کہکشاں لیکن نہیں مجال کہ گردِ نعال تک پہنچے ہمارا فن تو فقط نا […]

ورائے مثل ہے کونین میں جمالِ حضور

تلاش کس لئے کرتے ہو تم مثالِ حضور رگِ حیات میں بہتی ہے بوئے مشکِ ختن مشامِ جاں میں مہکتا ہے جب خیالِ حضور پسند ہے مجھے کچھ اس لئے بھی ذکرِ نبی زباں پہ رہتی ہے شیرینیٔ مقالِ حضور میں ان کی راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھا ہوں کبھی تو کاش یہ پلکیں ہوں […]

حرف کے مالک و مختار نے مسرور کیا

مدحتِ سرورِ کونین پہ مامور کیا ناز ہو مجھ کو مقدر پہ شہا ،آپ نے گر کاسۂ چشم کو دیدار سے معمور کیا چوم کر ہم نے تصور میں سنہری جالی صدمۂ فرقتِ سرکار کو کافور کیا اب کوئی منظرِ پر کیف لبھاتا ہی نہیں گنبدِ سبز نے ایسا مجھے مسحور کیا میں بھی ہوں […]