خیال آیا براے ثنا چنوں الفاظ

ادب سے ہو گئے سنتے ہی سر نگوں الفاظ نکالتا ہوں میں ان کو غزل کے چنگل سے پناہِ نعت میں رہتے ہیں پُر سکوں الفاظ خدا کی شان کہ ان کو مثالِ گُل کر دے نبی کی شانِ کریمی میں جب لکھوں الفاظ سخن نثار کروں بر سکوتِ مصطفوی کمالِ نطق پہ سب اپنے […]

جب میرے سرکار کرم فرماتے ہیں

گُل تو گُل ہیں خار کرم فرماتے ہیں میرے آقا رحمت ہیں دو عالم کی سب کے ہیں سردار کرم فرماتے ہیں وہ دنیا سے مستغنی ہو جاتا ہے جس پر بھی اک بار کرم فرماتے ہیں اس دربار میں لوگوں کی تخصیص نہیں جو بھی ہو نادار ، کرم فرماتے ہیں عشقِ نبی ہو […]

نہ مال و زر نہ سفارش کوئی لگانے سے

مدینے جاتے ہیں سب آپ کے بلانے سے مساء و صبح میں کہتا ہوں یانبی ادرک ملے گی خلد یقیناً اِسی ترانے سے بسا ہے جب سے مری آنکھ میں ہرا گنبد نظر کو پھیر لیا میں نے اس زمانے سے کریم ایسے کہ ان کو بھی بس دعائیں دیں جو باز آتے نہ تھے […]

وسیلہ چاہیے گر عمرِ جاوداں کے لیے

وظیفہ کیجیے لازم ثنا ، زباں کے لیے سبھی کو چادرِ رحمت میں ڈھانپ رکھا ہے پُکارا جس نے بھی محشر میں سائباں کے لیے حضور آپ کے جیسا شفیع ہوتے ہوئے کسی کی سمت نہ جائیں گے ہم اماں کے لیے مت اپنا نام نہ لینے کا حکم دیں اِس کو سزا یہ سخت […]

پہنچیں در محبوب پہ حسرت ہے کبھی سے

اور مانگیں اقامت کی جگہ اپنے سخی سے ہر سنگِ رہِ کوچۂ جانان کو چومیں ہو جائے گزر اپنا اگر ان کی گلی سے اے کاش پیوں روضۂ سرکار پہ زم زم اے کاش مری جان چھٹے تشنہ لبی سے کستوری و لوبان سے بڑھ کر ہیں معطر جو لوگ معطر ہوئے خوشبوے نبی سے […]

مصطفیٰ کے جو ہم رکاب نہیں

خلد میں وہ؟ نہیں جناب نہیں اُن کی انگشت کے اشارے کی لا سکا تاب ماہ تاب نہیں جب سے پڑھتا ہوں میں درود اُن پر میری سانسوں میں اضطراب نہیں آپ کو پاس رب نے بلوایا بیچ رکھا کوئی حجاب نہیں دیکھوں دونوں حرم ، بجز اس کے ”میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں“ […]

رشکِ افلاک ذات ہو جائے

حرزِ جاں اُن کی بات ہو جائے چشمۂ آبِ نعت جاری ہو کچھ سخن کی زکوٰۃ ہو جائے اُن کی چشمِ کرم کی جنبش سے ذرہ بھی کائنات ہو جائے میرا سینہ مدینہ ہو ، ایسی قلب پر واردات ہو جائے پھول چومیں کنارۂ لب کو وردِ لب جب صلوٰۃ ہو جائے لمحۂ مرگ کے […]

بالیقیں مائی ناز کرتی ہے

آپ کی دائی ناز کرتی ہے دیکھ آیا ہے جو مدینے کو اُس کی بینائی ناز کرتی ہے اُن کو یکتا کیا ہے خالق نے اُن پہ یکتائی ناز کرتی ہے نام لیتا ہوں میں محمد کا میری گویائی ناز کرتی ہے آپ کے پاؤں کے تلے آقا جو جگہ آئی ناز کرتی ہے جس […]

فلک بھی اس کے مقدر پہ رشک کرتا ہے

غلامِ سرور کونین کا وہ رتبہ ہے حصارِ نور میں محسوس ہو رہا ہے وجود ابھی تو نعت کے بارے میں صرف سوچا ہے شفیع و رحمتِ عالم کے اُمتی ہیں ہم جب آپ اپنے ہیں تو پھر تمام اچھا ہے بجھے گی تشنگی اپنی نہ صرف زمزم سے ہمارا مطمعِ قلب و نظر مدینہ […]

یہ کس کے نور کی تشریف آوری ہوئی ہے

چہار سمت دو عالم میں روشنی ہوئی ہے خدا نے مالک و مختارِ کُل کیا اُن کو یہ کائنات اُنہی کے لیے بنی ہوئی ہے وہ شہ جمال ہوا جب سے ارض پر معبوث نگاہِ حسنِ زمانہ دبی جھکی ہوئی ہے خیالِ شافعِ محشر ہمیں جونہی آیا سکونِ قلب ملا دور بے کلی ہوئی ہے […]