ہے رحمتِ یزداں کا امیں گنبدِ خضریٰ

سرکار کا وہ نورِمبیں گنبدِ خضریٰ پُر کیف ہے دلکش ہے بہت اِس کا نظارہ اَنگشتری دنیا ہے، نگیں گنبدِ خضریٰ مِل جائے اگر اذن تو سرکار میں دیکھوں پُر نُور وہ کعبہ وہ حسیں گنبدِ خضریٰ ہے کتنا کرم مجھ پہ کہ جس سمت بھی دیکھوں آتا ہے نظر مجھ کو وہیں گنبدِ خضریٰ […]

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا

حسینؓ و حسنؓ فاطمہؓ اور علیؓ کا جہاں بادشہ بھی ہیں دامن پسارے خوشا کہ گدا ہوں میں ایسے سخی کا مدینے میں سرکار مجھ کو بلا لیں میں ہوں منتظر کب سے ایسی گھڑی کا کلامِ خدا، جن و انس و مَلَک میں کہاں پر نہیں ذکر ان کی گلی کا مدینے میں یا […]

عشقِ سرکار میں جو دل بھی تڑپتا ہو گا

اپنا ایمان ہے تا حشر مہکتا ہو گا میرے سرکار کے چہرے کی ضیا ہے اتنی شمس بھی دیکھ کے آنکھوں کو جھپکتا ہوگا جس پہ چل کر میرے سرکار مدینے پہنچے کتنا خوش بخت مدینے کا وہ رستہ ہوگا کیا جلائے گی بھلا نارِ جہنم اس کو جو محبت میرے سرکار سے رکھتا ہوگا […]

محمد مصطفی کو رات دن جو یاد کرتے ہیں

مدینے میں بلا کر آپ اُن کو شاد کرتے ہیں جنہیں رب نے پکارا، رحمۃ للعلمیں کہہ کر میری تو ہر مصیبت میں وہی امداد کرتے ہیں جو رکھتے ہی نہیں دل میں نبی کے عشق کی دولت خدا شاہد ہے اپنی زندگی برباد کرتے ہیں ہوئے بے حال ہیں حالات سے ، للہ خبر […]

جو بھی اُن کی گلی میں آیا ہے

اس نے قدموں کا نور پایا ہے ناز ہے ہم کو ایسی ہستی پر جس کا ثانی نہ کوئی سایہ ہے ہو گیا اُن کے رو برو حاضر گر شجر کو کبھی بلایا ہے ڈھال لو خود کو اُن کی سیرت میں یہی اسلام نے سکھایا ہے جب بھی آیا لبوں پہ نامِ نبی ہم […]

رکھتا ہے جو بھی دل میں عقیدت حضور کی

ہوئی ہے اُس پہ خاص عنایت حضور کی اللہ کا بڑا ہی کرم اُس پہ ہو گیا جس کو عطا ہوئی ہے محبت حضور کی معراج پر ہیں دیکھ کے، حیران جبرئیل وہ عظمت و سیادت و رفعت حضور کی دونوں جہاں میں ہو گیا وہ شخص سرخرو قسمت سے مل گئی جسے قربت حضور […]

وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے

شہرِ سلطانِ مدینہ کی فضا ہی اور ہے شاہِ بطحا کی غلامی کا مزا ہی اور ہے ان کی چوکھٹ پر جو آئے وہ قضا ہی اور ہے کتنے شاہانِ جہاں پلتے ہیں ان کی بھیک پر قاسمِ نعمت ہیں وہ ان کو عطا ہی اور ہے آپ کی مدحت کا ہے اک سلسلہ ام […]

مداوائے رنج و اَلم چاہتا ہوں

حضور ایک چشمِ کرم چاہتا ہوں مجھے اپنی الفت سے سرشار کر دیں نہ دُنیا نہ باغِ اِرم چاہتا ہوں مری آرزو کاش! ہو جائے پوری نکل جائے چوکھٹ پہ دَم چاہتا ہوں خوشی مجھ کو مل جائے گی دو جہاں کی میں دِل میں فقط اُن کا غم چاہتا ہوں حضور آپ کے عشق […]

آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں

دو جگ کے سردار ہوئے ہیں ان کی اطاعت کرنے والے! جنت کے حقدار ہوئے ہیں ان کی رحمت ڈھال بنی ہے جب بھی مجھ پر وار ہوئے ہیں دور ہوئے جو ان کے در سے در در یونہی خوار ہوئے ہیں جو ہیں بھکاری ان کے نگر کے کس نے کہا نادار ہوئے ہیں […]

مہتاب و آفتاب نہ ان کی ضیا سے ہے

جو نور کائنات میں مہرِ حرا سے ہے قاسم ہیں جب حضور تو پھر کیوں نہ سب کہیں جو کچھ بھی مل رہا ہے انہی کی عطا سے ہے کرنا سلام عرض مرا بھی حضور سے اتنی سی التجا مری بادِ صبا سے ہے عشقِ رسولِ پاک میں گزرے تمام عمر میری دعا یہ خالقِ […]