آئینوں میں ڈھلتے ہیں حجر آپ کے در پر
بنتے ہیں خزف ریزے گہر آپ کے در پر خالی ہی پڑا رہتا ہے اکثر مرا سینہ دل میرا کیے بیٹھا ہے گھر آپ کے در پر گم ہو تے ہیں جو وادیِ پندار و انا میں ملتی ہے انھیں اپنی خبر آپ کے در پر جو اہل بصیرت ہیں زمانے میں، سبھی کی ہر […]