دعا مانگو نبی کے واسطے سے

جو بچنا ہو تمہیں ہر حادثے سے نبی کا نام لب پر آ رہا ہے چلی جاؤ بلاؤ سامنے سے ہوئے روشن کئی مہتاب دل میں دیار مصطفیٰ کو سوچنے سے وہاں خوشبوئیں ڈیرا ڈالتی ہیں گزرتے ہیں نبی جس راستے سے نبی کے شہر کی دلکش ہواؤ ادھر آؤ لگا لوں میں گلے سے […]

کسی غنی سے نہ ہم تاجور سے مانگتے ہیں

جو مانگنا ہے شہِ بحر و بر سے مانگتے ہیں عطا جو بوذر و سلمان کو ہوئی آقا وہی اڑان ترے بال و پر سے مانگتے ہیں انہیں کے چہرے چمکتے ہیں ماہ و انجم سے چمک جو کوچہ خیرالبشر سے مانگتے ہیں ہزار جان سے جو تجھ سے ہوگیے منسوب وہ سائبان ترے بام […]

مرے رسول تری جس طرف نظر ہوگی

مرے رسول تری جس طرف نظر ہو گی متاعِ عزت و توقیر بھی ادھر ہوگی مرا طبیب ہے نامِ رسولِ کون و مکاں وہ اور ہوں گے جنہیں فکرِ چارہ گر ہو گی لحد میں سید خیر الانام آئیں گے تو پھر ہماری لحد روشنی کا گھر ہوگی جو شہر طیبہ میں بکھری ہے چاندنی […]

رہنما جو شہِ کونین کی سیرت ہو جائے

آپ کے نام ہر اک منزلِ عظمت ہو جائے تیرے چہرے کو نظر دیکھے یہ ممکن ہے کہاں ہے بڑی بات جو قدموں کی زیارت ہو جائے تیرے آنے کی خبر پائے جو دیوانہ ترا بے نشاں دم میں ابھی عالمِ وحشت ہو جائے ایک قطرہ ترے الطاف کا پانی جو ملے دشت سرسبز مرا […]

پھول سے نازک راہ کے پتھر صلِ علیٰ

شہر شہِ کونین کے منظر صلِ علیٰ گنبد خضرا سوچو کتنا ہوگا حسیں چومنے آئیں ماہ و اختر صلِ علیٰ جس کو پسینہ سرورِ دیں کا کہتے ہیں رحمت کا وہ بھی ہے سمندر صلِ علیٰ پھول بیانی سے آقا کی گھبرائیں نیزے بھالے تیر اور خنجر صلِ علیٰ باغِ خلافت کا پہلا گل ہیں […]

جو ہے میرے مصطفیٰ کا راستہ

ہے وہی قربِ خدا کا راستہ مصطفیٰ کے نام میں ہے وہ اثر روک دیتا ہے بلا کا راستہ مصطفیٰ کی یاد ٹھنڈی چھاؤں ہے کیوں تکوں بادِ صبا کا راستہ جو دکھایا ہے نبی کی آل نے ہے وہی صبر و رضا کا راستہ گلشن سرکار سے ہے منسلک گلشن خیر النسا کا راستہ […]

زمانہ بھیک جس سے مانگتا ہے

وہ سرکارِ دو عالم کا گدا ہے کسی کا ہو نہیں سکتا وہ ہرگز نبی کے نام پر جو بک چکا ہے جو دل سے سرورِ عالم کو چاہے خدائے پاک اس کو چاہتا ہے جہاں روضہ ہے میرے مصطفیٰ کا وہیں سے جنتوں کا راستہ ہے بھلا ڈوبے گی کیسے میری کشتی کرم سرکار […]

ہوں جب سے نعتِ آقا کے اثر میں

مرا بھی نام ہے اہلِ ہنر میں انہی کی نعت پڑھتے ہیں زمانے انہی کا تذکرہ ہے بحر و بر میں یہ ذراتِ مدینہ کا ہے صدقہ جو اتنا نور ہے شمس و قمر میں تصور میں گلِ طیبہ ہے میرے کھلے ہیں پھول صحرائے نظر میں سوائے صدقۂ کوئے شہِ دیں رکھا ہی کیا […]

رحمتوں کا سلسلہ اچھا لگا

یعنی ذکرِ مصطفیٰ اچھا لگا ہے جہاں روضہ مرے سرکار کا اس گلی کا راستہ اچھا لگا آپ کی رحمت کا ہے سایہ بہت کب مجھے ظلِ ہما اچھا لگا اور بھی در ہیں زمانے میں مگر ہم کو ان سے مانگنا اچھا لگا رحمتِ عالم کے دستِ لطف سے جو ملا ، جتنا ملا […]

جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پزیرائی ملی ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ ذکر کرنے کو […]