کب بُلاؤ گے مجھے پاس مِرے آقا جی
بڑھتی جاتی ہے مِری پیاس مِرے آقا جی جس سے بن جائیں مِری بگڑی ہوئی سب باتیں ہو کوئی ایسا کرم خاص مِرے آقا جی سہہ نہیں پائے گی سختی یہ زمانے بھر کی ہے طبیعت مِری حساس مِرے آقا جی آئے گی بادِ صبا گُنبدِ خضریٰ چُھو کر گُلشنِ دِل کو ہے اِک آس […]