آپ کے در کے سوا ہم نے کدھر جانا ہے

ریت کے ذرّوں کی مانند بکھر جانا ہے اک نظر لُطف کی کافی ہے خرابوں کے لیے آپ کے دیکھے سے بگڑوں نے سنور جانا ہے ابر رحمت کا برس جائے اگر اس دل پر زنگ دنیا کا مرے دل سے اُتر جانا ہے خاکِ نعلین ستاروں سے ہے بڑھ کر ہم کو ذرّہِ نقشِ […]

آپ کے عشق میں ہستی کا فنا ہو جانا

لوگ کہتے ہیں اسے حق کا ادا ہو جانا یہ کرم کم تو نہیں میرے خدا کا مجھ پر نعت کہنے کا ہنر پل میں عطا ہو جانا بس اسی بات پہ محشر میں وہ راضی ہوں گے اُن کی خاطر مرا دنیا سے خفا ہو جانا آپ کے ہجر میں جل اُٹھنا مرے سینے […]

نعت کا آپ جسے اذن شہا دیتے ہیں

تیرگی اس کے مقدر سے مٹا دیتے ہیں راہِ طیبہ پہ جنوں رکنے کہاں دیتا ہے آبلے شوقِ سفر اور بڑھا دیتے ہیں کٹ تو سکتا ہے رہِ حق سے نہیں ہٹ سکتا اپنے رستے پہ جسے آپ لگا دیتے ہیں جب کبھی زادِ سفر کا کوئی پوچھے ہم سے آپ کی شان میں اشعار […]

سب جہانوں میں نیک نام ہوا

اُن کے در پر مرا قیام ہوا خلقتِ دہر نے شفا پائی جب محمد کا فیض عام ہوا آبِ زم زم سے با وضو ہو کر نعت کہنے کا اہتمام ہوا بس وہی سانس معتبر ٹھہری جس کا طیبہ میں اختتام ہوا عشق نے فاصلے سمیٹ دیے اب مدینہ بھی چند گام ہوا میں مدینے […]

دل کی تلخی مٹا درودوں سے

نطق شیریں بنا درودوں سے ہر رکاوٹ ہٹا درودوں سے راہ اپنی بنا درودوں سے مجھ کو دونوں جہان کی دولت ہو رہی ہے عطا درودوں سے نعت کا در جو بند تھا مجھ پر ہو گیا مجھ پہ وا درودوں سے مالکِ دو جہان کی مجھ کو مل گئی ہے عطا درودوں سے سخت […]

اُن کے افکار سے کردار سے خوشبو آئی

جب وہ بولے لب و رخسار سے خوشبو آئی اُن کی آمد سے بیاباں میں بہاریں آئیں اُن کے صدقے در و دیوار سے خوشبو آئی وہ جنھیں آپ کی چاہت کا قرینہ آیا اُن کے اقرار سے ، گفتار سے خوشبو آئی ہوں ابوبکرؓ کہ عثمانؓ ، علیؓ ہوں کہ عمرؓ حُبِـّ احمد کے […]

کتنا اونچا مقام رکھتے ہیں

جن کو آقا غلام رکھتے ہیں ہم فقیر اُن کے خاص ہیں لیکن بود و باش اپنی عام رکھتے ہیں وہ بھرم میری بے نوائی کا رات ، دن ، صبح و شام رکھتے ہیں سلسلے اُن کی خاص رحمت کے ہر گھڑی شاد کام رکھتے ہیں اب ہمارا یہی تعارف ہے ذکرِ سرور سے […]

رقص کرتی ہوئی جاتی ہے صدا کیف میں ہے

نامِ احمد کے سبب میری دعا کیف میں ہے رات خوشبو میں نہائی ہے دیا کیف میں ہے ذکرِ پر نور کی برکت سے فضا کیف میں ہے اُن کے آنے سے ہوا باغ معطّر ایسا ہر کلی لطف میں ہے بادِ صبا کیف میں ہے آمدِ نور میں لپٹا ہے جہاں کا منظر جشنِ […]

دونوں عالم پہ کیے آپ نے احساں کتنے

یعنی آباد ہوئے دشت و بیاباں کتنے ہر قدم اُن پہ درودوں کے تحائف بھیجے مرحلے زیست کے ہوتے گئے آساں کتنے رشکِ فردوسِ بریں خاک مدینے کی ہوئی ورنہ دنیا میں چمن اور ہیں میداں کتنے اُن کی نسبت سے اجاگر ہوئے میرے الفاظ عشقِ سرکار نے بخشے مجھے عنواں کتنے ورنہ پہچان تھی […]

زندگی وقف ہے برائے نعت

اس لیے مجھ پہ ہے عطائے نعت ایسی دنیا کی جستجو میں ہوں ہر جگہ ہو جہاں فضائے نعت سب لبوں پر ہے مصطفٰی کا نام چل پڑی ہے یہاں ہوائے نعت چشم کو تازگی کی نعمت دے تلخیاں دل کی سب مٹائے نعت آئینہ روح کا نکھرتا ہے فکر سے گرد بھی ہٹائے نعت […]