شوقِ درِ رسول میں گھر بار چھوڑ کر
آئے ہوئے ہیں دلبر و دلدار چھوڑ کر مدت سے ہے بسی ہوئی دل میں یہ آرزو جائیں مدینہ سارا یہ سنسار چھوڑ کر دنیا میں معتبر رہیں یہ سوچ ہے غلط سرکار کا دیا ہوا کردار چھوڑ کر طیبہ کی سرزمین ہے جنت زمین پر لوٹے گا کون خلد کے آثار چھوڑ کر جس […]