شوقِ درِ رسول میں گھر بار چھوڑ کر

آئے ہوئے ہیں دلبر و دلدار چھوڑ کر مدت سے ہے بسی ہوئی دل میں یہ آرزو جائیں مدینہ سارا یہ سنسار چھوڑ کر دنیا میں معتبر رہیں یہ سوچ ہے غلط سرکار کا دیا ہوا کردار چھوڑ کر طیبہ کی سرزمین ہے جنت زمین پر لوٹے گا کون خلد کے آثار چھوڑ کر جس […]

نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے

انہی کے در پر میں جاکے سمجھا کہ میرے دامن میں کیا نہیں ہے عطا ہے ان کی، عنایتیں ہیں، شفاعتیں ہیں، کفالتیں ہیں کرم کی بارش برس رہی ہے یہ سلسلہ تو رکا نہیں ہے عطائے ربی کے وہ ہیں قاسم سو ان کے در پر کمی ہو کیسے شہ و گدا میں کوئی […]

رہے دل میں جو یاد ان کی تو نزہت ساتھ رہتی ہے

عجب خوشبو درودوں کی بدولت ساتھ رہتی ہے جہاں جاتا ہوں رہتا ہوں سدا رحمت کے سائے میں یہی تو فیضِ نسبت ہے کہ رحمت ساتھ رہتی ہے میں تنہائی میں روضے کا تصور جب بھی کرتا ہوں اسے ہر بار تکنے کی وہ حسرت ساتھ رہتی ہے محبت ان سے ایماں کی جو شرطِ […]

اشک آنکھوں میں لیے مَحوِ دعا ہوں میں بھی

اسی دربار سخاوت کا گدا ہوں میں بھی عشق میں لوگ ہوئے مجنوں و فرہاد کئی بن کے دیوانہ مدینے کو چلا ہوں میں بھی میرے اللہ تجھے نسبتِ احمد ہے پسند ان کا عاشق اے محمد کے خدا ہوں میں بھی میں نہ صدیق و بلال و قرنی سا لیکن جان و دل سے […]

عاصیوں پر رحمتیں اپنی لٹانے آگئے

آج محبوبِ خدا دنیا سجانے آگئے دل نے لفظوں سے کہا تم نعت کی صورت بنو اشک بھی شامل ہوئے باہم ملانے آگئے آمنہ کا لال جھولے میں تھا محوِ خواب جب سدرہ سے جبریل تب جھولا جھلانے آگئے سخت دل لوگوں نے انکارِ نبوت جب کیا جھوم کر پتھر انہیں کلمہ سنانے آگئے غار […]

جس طرح حسیں گل کسی گلدان میں رکھا

جب شعر کوئی نعت کا دیوان میں رکھا یک لخت زمیں چومنے پلڑا چلا آیا جب عشقِ محمد مرا میزان میں رکھا رکھے ہیں ثنا خوان جہاں بھر میں خدا نے میں سندھ مکیں ہوں مجھے مہران میں رکھا یوں عشقِ محمد سے بھرا قلبِ حزیں کو قِندیل کو میں نے دلِ ویران میں رکھا […]

اے کائنات تجھ میں سمایا ہے اک جہاں

سب سے مگر حسین نبی کا ہے آستاں روضے پہ کچھ زبان سے بولا نہیں گیا اشکِ رواں سے حالتِ دل ہوگئی عیاں سیدھی سماعتوں سے اترتی تھی قلب میں حضرت بلالَ حبشی سناتے تھے وہ اذاں پایا کریم تونے حلیمہ سلام ہو تکتی تھیں تیری اونٹنی حیرت سے دائیاں جن کو چَرا رہے تھے […]

لبِ سرکار سے گلشن میں پھولوں کا قرینہ ہے

جو شبنم تم سمجھتے ہو محمد کا پسینہ ہے یہ جنت ہے مگر آداب اس کے کچھ الگ سے ہیں جھکا نظریں ، ادب سے چل کہ یہ شہرِ مدینہ ہے یہاں آواز رکھنا پست ، دل کا حال بھی اپنا نگاہوں سے بیاں کرنا ادب کا یہ قرینہ ہے اے دنیا خوب صورت تجھ […]

بے چین دل نے جس گھڑی مانگا خدا سے عشق

ایسا کرم ہوا کہ ملا مصطفٰی سے عشق گلشن ہو خار ہو یا جبل ، ریگزار ہو دل میں بسا ہے ان کی گلی و گدا سے عشق ہر سانس میں مہک ہے معطر ہے وہ فضا خوشبو کو ہے مدینے کی پیاری ہوا سے عشق بٹتا چلا گیا وہ محمد کے ہاتھ سے مال […]