تلاشِ نقشِ پائے سرورِ دیں میں بسر کرنا

مدینہ جانے والوں جب مدینے کا سفر کرنا ہے جس کے رخ سے بحرِ نور و نکہت ہر گھڑی جاری اسی نورِ ہدیٰ کے ذکر میں شام و سحر کرنا غبارِ نقشِ پائے مصطفیٰ مل جائے گر تم کو جبینِ شوق کے سجدے وہاں بارِ دگر کرنا مواجہ سامنے ہو یا نظر کے سامنے گنبد […]

میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

مقدر اپنا بنا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں خزاں رسیدہ تھی جان میری کرم نے تیرے بہار بخشی لقا سے تیرے میں جی اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں ہے مشک آگیں ہوائے طیبہ بہار آگیں فضائے طیبہ چراغِ مدحت جلا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ […]

ربابِ دل کے سبھی تار گنگنا اٹھے

محبتوں کے دیے دل میں جگمگا اٹھے بس ایک پل کو وہ جلوہ مجھے دکھائی دیا درونِ قلب ستارے سے ٹمٹما اٹھے کھڑا ہوں چشم بہ کف منتظر مدینے میں نہ جانے کب وہ حسیں زلف لہلہا اٹھے ہزار زاویے قرطاس پر نمایاں ہوئے حروفِ نعتِ نبی اس پہ جھلملا اٹھے تمہارے نعلِ مقدس کے […]

چراغِ ثنائے محمد جلا کر در و بامِ اقدس پہ نظریں جما کر

رگِ جاں کے اندر کوئی بولتا ہے ثنائے محمد تو صبح و مسا کر تڑپ گر ہو سچی تو اذنِ مدینہ کئی بار دیتے ہیں وہ امتی کو زیارت کا عاشق کو دیتے ہیں موقع کئی مرتبہ وہ مدینے بلا کر ہے جب رب سلم دعائے محمد سرِ پل نہ طاری ہو کیوں وجد ہم […]

معدن جود و عطا شاہِ مدینہ آقا

سبز گنبد ہے ترا مثلِ نگینہ آقا دھڑکنیں صل علی صل علی کہتی رہیں ذکر کا کردے عطا ایسا قرینہ آقا ہے ترا دست کرم بار ہی امید مری بحرِ عصیاں میں پھنسا میرا سفینہ آقا خاکِ پا آپ کی مل جائے تو میں رقص کروں اس سے بڑھ کر بھی ہے کیا کوئی خزینہ […]

ہر صبح پر فضا مرے شمس الضحٰی سے ہے

اور چاند کی ضیا مرے بدر الدجی سے ہے آیا پلٹ کے مہر، قمر چاک ہو گیا اظہارِ حکم آپ کی ہر ہر ادا سے ہے سارے جہاں کی رونقیں برگ و گل و چمن اے کار گاہِ حسن تری ہی عطا سے ہے اور آمنہ کے گھر کی طرف کعبے کا جھکاؤ اظہارِ عجز […]

یوں اپنے واسطے بخشش کا التزام کیا

کریم ذکر ترا میں نے صبح و شام کیا خدائے پاک نے جا ؤک کہہ کے بندوں کو حضور آپ کی مدحت کا اہتمام کیا کرم کے سارے دریچے ہوئے ہیں وا مجھ پر سخن کا محور و مرکز جب ان کا نام کیا نبی کے نام سے میں نے کیا سخن کو شروع اور […]

ہر سو ہے جس کی جلوہ نمائی وہ آپ ہیں

جس کے لیے ہے ساری خدائی وہ آپ ہیں روشن چمکتے چاند ستاروں کا کیا کہیں خلدِ بریں بھی جس نے سجائی وہ آپ ہیں صبحِ ازل سے شامِ ابد تک مرے حضور! جاری ہے جس کی مدح سرائی وہ آپ ہیں بہرِ اماں ہوں نقشِ کفِ پا کے سائے میں لو دل کی میں […]

تجھے بس دیکھتے رہنا بھی اک کارِ عبادت ہے

تری آنکھوں سے طیبہ دیکھتا ہوں کیا سعادت ہے شہِ کونین کو اے بے خودی تو نے کیے سجدے مدینے کو ترا کعبہ کہوں تو کیا قباحت ہے حطیمِ پاک میں میزابِ رحمت یوں برستا ہے اسے بھی ہر گھڑی حاصل مدینے سے ارادت ہے خدا نے خلد سے اے سنگِ اسود تجھ کو بھیجا […]

بہارِ باغِ عدن ہے آقا تری صباحت کے صدقے واری

تمام حسن و جمال آقا تری وجاہت کے صدقے واری خطیب سارے ادیب سارے ہیں تیرے آگے سخن خمیدہ فصاحتیں اور بلاغتیں سب تری خطابت کے صدقے واری قطار اندر قطار ہیں کہکشائیں ساری مَلَک بھی سارے شبِ ملاقات کل خدائی تری بصارت کے صدقے واری سوا طلب سے بھی بھر گئی تھی ابوہریرہ کی […]