استماعِ ذکرِ حق، مصرف سدا ہو یا نبی

ورد لب شام و سحر صلِ علٰی ہو یا نبی پھر تمنّائے زیارت لے چلے سوئے حرم پھر سے عاشق پر کوئی ایسی عطا ہو یا نبی یامحمد کہتے کہتے دم نکل جائے مرا سر سوئے روضہ دم آخر جھکا ہو یا نبی حشر میں پاؤں لواء الحمدکے نیچے جگہ اور سر پر سایہ زلف […]

ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

ظلمتیں مٹتی ہیں جس سے وہ ستارا آپ ہیں احمدِ مرسل سراپا رحمتہ للعٰلمیں مرکزِ جود و سخا حسنِ دلآرا آپ ہیں جب الیٰ غیری پکاریں گے تمامی حشر میں کامل و اکمل سہارا تب ہمارا آپ ہیں والئی کون و مکاں ہیں،فخرِ حسنِ دو جہاں نکہت و نورِ جہاں سارے کا سارا آپ ہیں […]

صاحبِ جود و سخاوت کون ہے تیرے سوا

قاسمِ ہر ایک نعمت کون ہے تیرے سوا کس کے دم سے رتبۂ عالی پہ ہے آدم نژاد رشک گاہِ آدمیت کون ہے تیرے سوا درجۂ ختمِ رسل پر کون ہے جلوہ فگن لائقِ ختمِ نبوت کون ہے تیرے سوا بخشوائے گی گنہگاروں کو جو محشر کے دن کس نے پائی ہے یہ قدرت کون […]

نگاہِ شوق کو دیتی ضیا روضے کی جالی ہے

مدینہ مرکزِ مدحت ہے اس کی شان عالی ہے کھڑا ہے ہاتھ باندھے سرخمیدہ عرضِ دل لے کر کہ شہرِ ہجر سے آیا ہوا یہ اک سوالی ہے مدینہ سے ہی تو منسوب ہے یہ سر زمیں میری اسی کا فیض ہے چاروں طرف پرچم ہلالی ہے ثنا گوئی بفیضِ مصطفی ہم کو میسّر ہے […]

غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے

جیسی خوشبو مصطفی کے گیسوئے اطہر میں ہے ہر گھڑی طیبہ کی یادوں میں مگن ہے دل مرا آرزو شہرِ مدینہ کی دلِ مضطر میں ہے کم نہ ہوں گی اب کسی تدبیر سے بے تابیاں اے طبیب ان کا مداوا دیدِ بام و در میں ہے مژدۂ اذنِ حرم سے دیں تسلی زیست کو […]

ہر شے کو تبھی جشن منانے کی پڑی ہے

یہ والیٔ کونین کے آنے کی گھڑی ہے آئے ہیں سرِ عرشِ عُلا سیدِ عالَم کُل خلقِ جناں دید بہ کف رہ میں کھڑی ہے طیبہ کی کرم بار گھٹائیں ہیں نظر میں آنکھوں سے رواں حبِ مدینہ کی لڑی ہے ملتا ہے ترے در سے بنا مانگے ہمیشہ رحمت تری اے شاہ اُمم کتنی […]

قلم ہے ہاتھ میں اور مدحتِ شاہِ امم ہے

ردائے عجز اوڑھے فکر میری سر بہ خم ہے کہاں میں اور کہاں مدحت نگاری کا یہ منصب ترے اذن و عطا سے ہی رواں میرا قلم ہے ترا رتبہ رفعنا اور تیری بات اونچی سرِ محشر بھی سایہ دار تیرا ہی علم ہے شہِ کونین ہیں وہ اور ممدوحِ خدا ہیں کلام اللہ میں […]

نظر نیچی، خمیدہ سر، جبیں کو اپنی خم رکھنا

مدینہ جانے والو جب وہاں پہلا قدم رکھنا یہاں کی حاضری ایقانِ بخشش کو بڑھاتی ہے لبوں پر التجائے مغفرت آنکھوں کو نم رکھنا انہی کے دم قدم سے بزمِ ہستی میں بہاریں ہیں حضورِ حق دعاؤں کو وسیلے میں ہی ضم رکھنا یہ شہرِ شاہِ خوباں ہے یہاں رحمت برستی ہے جبینِ شوق کے […]

واہ شاہِ دوسرا رتبہ شبِ اسری ترا

رفعتِ افلاک نے سر پر لیا تلوا ترا ڈوب جائیں گے مہ و انجم سبھی وقتِ سحر صبحِ صادق کی طرح ہوگا عیاں جلوہ ترا دھڑکنوں کی دف پہ دل ہے محوِ نعت و التجا پڑھ رہا ہے نعت تیری یا نبی بندہ ترا اے امام الانبیا، اے نائبِ پروردگار آج بھی تکتی ہے رستہ […]

حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کردیں

حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کر دیں مطافِ فکر و سخن اور خوشنما کر دیں نگاہِ شوق تڑپتی ہے روئے انور کو دوائے کربِ دروں شاہِ انبیا کر دیں ہمیشہ رہتا ہوں مصروف جن کی مدحت میں عجب نہیں وہ مجھے اجر خود سے آ کر دیں ہر ایک بارہویں تاریخ ہوں تمھارے حضور […]