مرے دل میں بہت مدت سے ارمانِ مدینہ ہے

سجے ہیں اشک آنکھوں میں کہ جیسے آبگینہ ہے گھرا ہوں گردشِ طوفانِ عصیاں میں،مرے آقا ہے بحرِ بیکراں طغیانی ہے میرا سفینہ ہے غبارِ راہِ طیبہ ہے عقیدت کا حسیں محور جبینِ شوق کی منزل درِ شاہِ مدینہ ہے عقیدت کے سوا افکار کا حاصل نہیں کچھ بھی ختن کے مشک سے بھی بڑھ […]

لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا

حرف در حرف کرنیں چمکنے لگیں مدح لکھی تو دیواں معطر ہوا نور سے رب نے اپنے بنایا جنہیں، وجہِ تخلیقِ کونین کہیئے انہیں وہ ہیں ممدوحِ رب یعنی خیر الورٰی وجہِ حسنِ جہاںان کا پیکر ہوا گرمی و تابِ محشر میں چاروں طرف نفسی نفسی کا عالم تھا، سایہ نہ تھا پھر وہ پردہ […]

ہجومِ عاشقاں میں آپ کے در پر میں حاضر ہوں

گناہوں پر پشیماں ہوں بہ چشمِ تر میں حاضر ہوں حجر،برگ و ثمر،شمس و قمرجھک کر سلامی دیں صلوۃ و السلام اے شاہِ خشک و تر میں حاضر ہوں یہ دل امراض عصیاں سے قریبِ مرگ پہنچا ہے بچا لو اور جِلا دو شاہِ بحر و بر میں حاضر ہوں نہیں کچھ مقصدِ عالم تمہی […]

برائے مدح کہوں نوّرَ اَلقمر آقا

سلام پڑھتے ہیں تم پر شجر، حجر آقا تمھارے دستِ کرم سے رواں ہوئے چشمے جدھر اشارہ ہوا جھک گیا قمر آقا عدن کے باغ کی نکہت ہو یا کہ مشکِ ختن ترے پسینے سے پاتے ہیں سب اثر آقا میں اس امید پہ محفل سجائے رکھتا ہوں کبھی تو آپ بھی آئیں گے میرے […]

نظر میں سرورِ دیں کا جمال رکھتا ہوں

انہی کے ذکر سے راتیں اجال رکھتا ہوں محبتوں کے حوالوں میں ذکرِ حسنِ نبی میں سب سے پہلے ہی بے قیل و قال رکھتا ہوں سخن کی راہ میں تکریمِ ان کی لازم ہے میانِ شعر ادب کا خیال رکھتا ہوں مرا یہ نام و نسب ہے انہی کی نسبت سے نہ کوئی خوبی […]

دیدۂ شوقِ ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے

یاد طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے حرف و الفاظ ہوئے محوِ طوافِ قرطاس جب سے مدحت میں تری وقف قلم […]

ہے میری زیست کا حاصل محبت آپ سے آقا

مرے حرف و سخن میں ہے حلاوت آپ سے آقا یہ جو دستِ عطا سے پنج آبی نہریں جاری ہیں ورائے عقل پائی ہے عنایت آپ سے آقا سبھی عشاق ہیں تیار اپنی جان دینے کو ہے ساری عشق و مستی کی حرارت آپ سے آقا ظہورِ نور سے ہیں آپ کے، دونوں جہاں روشن […]

سنگِ اسود میں بسی ہے خوشبوئے بوسہ تری

اے مہِ کوہِ صفا کیا شان ہے بالا تری لمسِ لب ہائے مبارک سے بڑھی شانِ حجر رشکِ سنگِ خلد ہے وہ بن کے بوسہ گہ تری اس دیارِ رنگ و نکہت میں کھڑا ہوں دم بخود ہے جہاں جائے ولادت اے شہِ والا تری ماورائے فہم ہیں اس شہر کی رعنائیاں خوشبوئے نقشِ کفِ […]

رحمتِ حق کا خزانہ مل گیا

آپ کا عشقِ یگانہ مل گیا در بدر ہونے کا مجھ کو ڈر نہیں مل گیا مجھ کو ٹھکانہ مل گیا ہم غریبوں ، بے نواؤں کے لئے شاہِ دیں کا آستانہ مل گیا رفعتیں اس کا مقدر ہو گئیں جس کو حرفِ عاجزانہ مل گیا اک زمانہ ہو گیا اُنؓ کا غلام آپ کا […]

مرتبہ کیا ہے خیرالانام آپ کا

بس خدا جانتا ہے مقام آپ کا اہلِ جنت پڑھیں گے ہمیشہ درُود ذکر ہوتا رہے گا مدام آپ کا چومتے ہیں ہمیشہ جھکا کر نظر جب بھی عشاق سنتے ہیں نام آپ کا کب بنے گا مری حاضری کا سبب کب ملے گا مجھے بھی پیام آپ کا کب تلک آنکھ ترسے گی دیدار […]