یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرے لیے

یہ دل مچلتا رہا بار بار تیرے لیے کسے پکاروں نہیں ماسوا کوئی تیرے مری صدائیں مری ہر پکار تیرے لیے فلک پہ تیرے لیے ہی سجے ہیں ماہ و نجوم گلوں کو دیتی ہے خوشبو بہار تیرے لیے یقیں ہے میری شفاعت کرے گی تیری ذات مرا بھروسہ مرا اعتبار تیرے لیے ہر ایک […]

حسن و جمالِ روضہء اطہر نظر میں ہے

منظر ابھی تلک وہ برابر نظر میں ہے ظلماتِ گرد و پیش مجھے کیا ڈرائیں گی صد شکر اُن کا رُوئے منور نظر میں ہے میں ہوں سیہ کار مگر روزِ حشر بھی مہر و عطائے شافعِ محشر نظر میں ہے آغاز جس کا حضرتِ حسانؓ سے ہوا وہ کاروانِ شوق مسلسل سفر میں ہے […]

آتا ہے جب بھی لفظِ محمد اذان میں

میلاد ہونے لگتا ہے دل کے مکان میں صورت کی اُن کے سیرت و کردار کی کہیں ملتی نہیں مثال کسی بھی جہان میں حضرت حلیمہؓ آپ کی گودی کے لعل سا دھرتی پہ تھا نہ کوئی کہیں آسمان میں عشقِ رسولِ ہاشمی کی ہے یہ بھی عطا نعتیں سُنوں تو شہد ٹپکتاہے کان میں […]

آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو

درپیش مجھے جب بھی مدینے کا سفر ہوں لگ جائیں مری سوچ کو پر کاش کبھی جو پرواز مری پہلی ہو احمد کا نگر ہو وہ کیف ِ حضوری ہو مجھے طوفِ نظر کا اپنا ہی پتہ ہو ، نہ کسی کی بھی خبر ہو درکار نہیں کچھ بھی مجھے شعر و سخن سے اِک […]

تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے

جو کچھ بھی ہے وہ حلقۂ خیرالبشر میں ہے روشن ہے کائنات فقط اُس کی ذات سے وہ نور ہے اُسی کا جو شمس و قمر میں ہے اُس نے سکھائے ہیں ہمیں آدابِ بندگی تہذیب آشنائی یہ اُس کے ثمر میں ہے چھوُ کر میں آؤںگنبدِ خضریٰ کے بام و در یہ ایک خواب […]

رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

شعر کہتے رہے ، نعت ہوتی رہی سیرتِ مصطفیٰ پر جمی تھی نگہ اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی عرش پر بزمِ میلاد رکھی گئی معتبر آپ کی ذات ہوتی رہی جب سے اوڑھا اسیری کے اس شوق کو زندگی مثلِ میقات […]

لفظ لکھوں جو بھی ، ہو وہ نعت کا صلّیِ علیٰ

تذکرہ ہو آپ کی ہی ذات کا صلّیِ علیٰ راستے سارے مدینے کی طرف ہوں گامزن دن کا ہو یا پھر سفر ہو رات کا صلّیِ علیٰ کیا مقامِ مصطفی ہے ؟ جانتا ہے بس خدا علم کس کو آپ کے درجات کا صلّیِ علیٰ یہ سبھی مخلوق دنیا کی ازل سے آج تک کھا […]

اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے

رستے ہیں منور ابھی تک غارِ حرا کے زرخیز ہوا دشتِ جہاں اُن کے کرم سے احسان ہیں اُمت پہ فقط اُن کی گھٹا کے ہم بھٹکے ہوئے ذہن کے شاعر ہیں جبھی تو یہ نعت بھی لکھّی ہے وسیلے سے عطا کے رہتی ہے ہمہ وقت مرے ساتھ یہ تسبیح سانسوں میں پرویا ہے […]

آپ سے میری نسبت مرا فخر ہے

آپ ہی کی بدولت مرا فخر ہے ناز ہے آپ کا اُمتی ہونے پر آپ سے میری عزت ، مرا فخر ہے ہو تو عشقِ محمد میں ہو خاتمہ اور پھر ہو زیارت مرا فخر ہے کہہ رہا ہوں تسلسل سے نعتِ نبی آپ کی ہے عنایت مرا فخر ہے دیگر اصنافِ شعر و سخن […]

باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپ سے

آج بھی غارِ حرا میں روشنی ہے آپ سے آپ سے ہم کو ملا ہے بے نہایت حوصلہ ہم خطاکاروں کی رشد و رہبری ہے آپ سے ظلمتوں کو آپ نے بخشی اُجالوں کی ردا طاقِ ہستی میں چراغِ سرمدی ہے آپ سے بادشاہت کو ملا ہے آپ سے اعلیٰ مقام سرورِ ہر دو جہاں […]