ہوگی ہلال و بدر کی کیا چاندنی حسیں

ہے بارہویں کے چاند کی جلوہ گری حسیں ہے دم قدم سے آپ کی تابانی کے حضور شمس و مہ و نجوم کی تابندگی حسیں میں نعت کے چراغ جلانے میں تھا مگن ہوتی گئی ہے آپ سے وابستگی حسیں وہ اہتمامِ نعت ہوا خوبخود کہ اب لگنے لگی ہے مجھ کو مری شاعری حسیں […]

ہے گزارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

میں ملوں خود کو درِ صلّیِ علیٰ کے سامنے میں جیوں تو سانس میری اُس نگر کی ہو رہین میں مروں تو روضۂ خیرالوریٰ کے سامنے جس نے ظلمت کو اُجالوں کی بشارت بخش دی اِک دیا روشن رہا سرکش ہوا کے سامنے جس کو تیرا دامنِ رحمت میسر آگیا بے خطر آیا وہ ہر […]

اوجِ صدق و صفا سیّدی مصطفیٰ

سرورِ انبیأ سیّدی مصطفیٰ حق کی منشأ وہی ، حق کا وہ فیصلہ جو ہے تیری رضا سیّدی مصطفیٰ کوئی بھی اُن کے در سے نہ خالی گیا بحرِ جود و سخا سیّدی مصطفیٰ مرتبہ اُن کے جیسا کسی کو ملا؟ مرحبا مصطفیٰ ، سیّدی مصطفیٰ جو بھی اسوہ پہ تیرے چلا ، پاگیا خلد […]

آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

بڑھ رہا ہے مسلسل یہ ذوقِ سفر چشمِ خفتہ کا ہے خوابِ بیدار یہ آنکھ کھولوں مقابل ہو اُن کا نگر کاش مل جائے میری جبیں کو بھی اب میرے آقا کا ، سلطان کا سنگِ در آپ ہیں آسرا عاصیوں کا حضور اس لئے ہے شفاعت پہ سب کی نظر بے سلیقہ ہوں میں […]

جب بھی پہنچا ہوں آقا کے دربار تک

آنکھ کہنے لگی ہو کے سرشار تک محوِ پرواز ہے پھر تخیل مرا پھر سے بڑھنے لگی دل کی رفتار تک قدسیوں نے تراشی ہے روشن لکیر عرش سے روضۂ شاہِ ابرار تک آپ جیسا کوئی تھا نہ ہوگا کہیں ذاتِ بے مثل سیرت سے کردار تک ہو مدینے کی دل میں کسک مرتضیٰؔ یہ […]

جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

لِکھی ہو کاش میری بھی مدینے میں مری سانسیں مجھے دھوکہ نہ دے جائیں بلا لو مصطفیٰ جلدی مدینے میں نہ جانے کیسے میں خود تو چلا آیا پہ آنکھیں رہ گئیں میری مدینے میں ہو افطاری مری ملتان میں آقا یہ خواہش ہے کروں سحری مدینے میں کہیں ٹھہرا ترا دل مرتضیٰ اشعرؔ کہیں […]

لکھوں جب شعر میں شاہِ اُمم پر

شۂ کونین کے جاہ و حشم پر مجھے آتا ہے رشک اپنے قلم پر ہوں زندہ اُن کے ہی جود و کرم پر میں مفلس تھا مری جھولی تھی خالی لیا جب نام تو قسمت بنالی مثالِ ابر ہے یہ اسمِ عالی کہ چھا جاتا ہے ہر رنج و الم پر جہاں میں طالبِ جود […]

وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے

مدارِ جاں پہ وہی سائبانِ رحمت ہے حضور قحط و وبأ کے حصار میں ہیں ہم حضور آپ کی ہستی زمانِ رحمت ہے لبوں کا ورد ہے سرکارِ رحمتِ عالم وہ نخلِ عشق کا امکاں ، جہانِ رحمت ہے وہ جس کی ہستی پہ نازاں ہے کبریا خود بھی زمینِ اُنس ہے وہ ، آسمانِ […]

وہ ملجا ہے ، وہ ماوا ہے

وہ آقا ہے ، وہ داتا ہے جس کی مدحت خالق نے کی وہ مولا میرا مولا ہے ڈوب گیا جو اُن کے عشق میں اُس کی دنیا ہے ، عقبیٰ ہے دل ہو اُن کی الفت کا گھر جو چاہو پھر وہ ہوتا ہے اُن کے وسیلے سے تم اشعرؔ جو مانگو گے رب […]

اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا

خلد کا راستہ مرحبا مرحبا رشک جس پر کریں سب کے سب انبیأ آپ کا مرتبہ مرحبا مرحبا ظلمتِ شب میں ان کے قدم سے ہوئی نور کی ابتدا مرحبا مرحبا وہ تہی دامنوں پر رہیں ملتفت وہ سراپا سخا مرحبا مرحبا جن کے ملبوس پر چاند پیوند کے وہ شۂ دوسرا مرحبا مرحبا مجھ […]