گرے جب اشک طیبہ میں پلک سے

ملائک تھامنے آئے فلک سے مری آنکھوں میں دشتِ کربلا ہے اسے سیراب کر دو اک جھلک سے شرف بخشا حبیبِ کبریا نے بشر اشرف ہوا جن و ملک سے ترے دم سے ہیں مہر و ماہ روشن سجی ہے کہکشاں تیری چمک سے دیارِ مصطفیٰ لے جائے مجھ کو گزارش ہے مدینے کی سڑک […]

اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں

بسے ہوئے ہیں وہی ذی وقار دھڑکن میں ترے ہی روپ گلوں کو دیئے گئے ہوں گے مہک تری ہے چمیلی گلاب سوسن میں عبیر و عود مطوّف و پرشد ترے پسینے کے ختن کا مشک مہکتا ہے تیرے دھوون میں قرار پاؤں گا قدمینِ شاہ میں گر کر سنا ہے آئیں گے عالی جناب […]

اے کریم! نادم ہوں، شرم ہے نگاہوں میں

زندگی کا ہر لمحہ، کٹ گیا گناہوں میں بے قرار کرتی ہے، یاد جب مدینے کی چین ڈھونڈ لیتا ہوں، سسکیوں میں آہوں میں نعت کا لکھاری ہوں، نعت ہی میں رہتا ہوں نعت ہی سے رونق ہے، دل کی خانقاہوں میں دبدبہ ہے جو آقا، آپ کے غلاموں کا وہ نظر نہیں آتا، مجھ […]

وجد میں دل ہے روح پہ مستی طاری ہے

یادوں میں سرکار کی صورت پیاری ہے رہتا ہوں ہر وقت خیالوں میں ان کے لطف و کرم سرکار کا مجھ پر جاری ہے شافعِ محشر سے امید ہے شفقت کی سر پہ گناہ کا بوجھ اگرچہ بھاری ہے نیک اعمال نہیں ہیں میرے پاس، مگر نعت کی چند کتابیں کار گزاری ہے دکھ مجھ […]

بامِ قوسین پر ہے علم آپ کا

کوئی ہمسر نہیں ذی حشم آپ کا لائقِ شان الفاظ ملتے نہیں کیسے ہوگا قصیدہ رقم آپ کا بعدِ خلاقِ عالم، شہِ بحر و بر نام اونچا خدا کی قسم آپ کا نعت کہنے کی دی ہے اجازت مجھے مجھ خطا کار پر ہے کرم آپ کا دل میں سرشاریاں رقص کرنے لگیں نام سنتے […]

تیرے اذکار سے روشن ہے مقدر میرا

دل تری یاد سے رہتا ہے منور میرا شاہِ کونین سے کتنی ہے محبت مجھ کو جانتا ہے مرے جذبات پیمبر میرا چوم پاؤں میں اگر نقشِ کفِ پائے رسول اس بلندی پہ کرے ناز مقدر میرا جب بھی مشکل کوئی درپیش ہوئی ہے مجھ کو اشک شوئی مری کرتا رہا سرور میرا گھر میں […]

حضور آئے، روشنی سے انسلاک ہو گیا

غرور ظلمتوں کا ایک پل میں خاک ہو گیا کہاں خدائے لم یزل کہاں میں خاک سر بسر مگر حبیب پر ہمارا اشتراک ہو گیا ہمارے فکر و فن پہ آپ نے بڑا کرم کیا ہمارا نعتِ مصطفیٰ میں انہماک ہو گیا جواہرِ علوم اس قدر لٹائے آپ نے زمانہ جہل کی کثافتوں سے پاک […]

سنا کر نعت، ذوقِ نعت کی تکمیل کرتے ہیں

ترے اوصاف کا پرچار بالتفصیل کرتے ہیں درونِ دل سجا کر محفلِ میلاد ہم اکثر ترے تذکار سے رنج و الم تحلیل کرتے ہیں مرا حسنِ عمل ہے مشتمل اشعارِ مدحت پر یہی اشعار میرے جرم کی تقلیل کرتے ہیں تصور میں سجا کر کوئے خوشبو کا حسیں منظر ہم اپنی حسرتِ دیدار کی تکمیل […]

لپٹ کر سنگِ در سے خوب رو لوں

سیاہی قلب کی اشکوں سے دھو لوں بڑا دل کش مدینے کا ہے منظر یہی منظر نگاہوں میں سمو لوں حذر ہے در بدر کی ٹھوکروں سے محمد مصطفیٰ کے در کا ہو لوں زیارت خواب میں ہو جائے شاید اسی امید پر کچھ دیر سو لوں ثنا خواں ہوں شہِ کون و مکاں کا […]

اگر وہ دیکھ لیں مجھ کو جو اک نظر بھر کے

بدل ہی جائیں مقدر مجھ ایسے کمتر کے ہجوم نوری فرشتوں کا ہوگا نادیدہ قدم اٹھاتا ہوں کوئے نبی میں ڈر ڈر کے نظر پھرے گی کسی اور سمت کیوں اس کی ملا ہو آپ کا دیدار جس کو مر مر کے اسی کے دم سے بہاریں ہیں صحنِ گلشن میں چمن پہ لاکھ ہیں […]