فردوس سی ہے جلوہ نمائی ترے در کی
ہے مسندِ بے مثل چٹائی ترے در کی سلطان بھی کرتے ہیں گدائی ترے در کی خالق نے ہے خود شان بڑھائی ترے در کی بینائی پہ روشن ہوا باطن کا اندھیرا ان آنکھوں میں جب خاک لگائی ترے در کی کیا میری مودت کو گرائے مرا دشمن دیوار ہے یہ سیسہ پلائی ترے در […]