رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی

رات بھر دل کی دنیا مہکتی رہی رات بھر یاد آقا کی آتی رہی ہر طرف نور ہی نور تھا جلوہ گر میں تو اپنی خبر سے بھی تھا بے خبر کتنا مسحور تھا شب کا پچھلا پہر صبح تک رات جادو جگاتی رہی میرے دامن میں تارے اترتے رہے زندگی میں مری رنگ بھرتے […]

ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے

سوزِ عشق نبی میری میراث ہو کاش زندہ رہوں میں اسی کے لیے ان کے در سے مجھے سرفرازی ملے مال و اسباب سے بے نیازی ملے میں جیوں تو جیوں بس انہی کے لیے میں مروں تو مروں بس انہی کے لیے رشک کرتا رہے مجھ پہ سارا جہاں مجھ سے مانگیں پنہ وقت […]

یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

یہ جو میرے کپڑے ہیں جو چھنی ہے بی بی سے اس ردا کا صدقہ ہیں یہ جو میرے آنسو ہیں شام کے شہیدوں کی ہر دعا کا صدقہ ہیں ہونٹ اور زباں میری کربلا کے پیاسوں کی التجا کا صدقہ ہیں یہ جو دست و بازو ہیں مرتضیٰ کے بیٹے کی ہر وفا کا […]

سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے

مدحتِ مصطفےٰ تیرا احسان ہے تجھ سے کیا کیا مقدر سنورنے لگے یہ تو ان کی عنایات کی بات ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری اوقات ہے جس کا دنیا میں پرسان کوئی نہ تھا اس کے دامن میں تارے اترنے لگے یونہی مجھ پر کرم اپنا رکھنا سدا اے مرے چارہ گر اے […]

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذبات میں آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ ہوا دھڑکنیں مل […]

چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

بادشاہوں میں بوری نشینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی کون سی آنکھ میں آپ کا غم نہیں کس کا سر آپ کے سامنے خم نہیں دل سمندر کے پنہاں خزینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی مثل قرآن ہے آپ کی زندگی جزو ایمان ہے آپ کی پیروی صادقوں غازیوں […]

محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے

طیبہ کے ہوں گے اک دن اے دوستو نظارے رختِ سفر کسی دن باندھیں گے ہم بھی اپنا ہم کو بھی لوگ ملنے آئیں گے گھر ہمارے آتے ہیں کام اس کے ایمان ہے یہ اپنا مشکل میں جو کوئی بھی سرکار کو پکارے جب یاد ان کی آئی بے اختیار آئی پلکوں پہ جھلملائے […]

نازِ کبریا ہے تو فخر انبیاء ہے تو

وجہِ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو بے وفا زمانے کو تو نے الفتیں بانٹیں کوئی بھی نہ تھا جس کا اس کا آسرا ہے تو روشنی ترا پرتو چاندنی ترا دہوون کیا مثال دوں تیری کیا نہیں ہے کیا ہے تو قدر والی شب میں جو میں نے رب سے مانگی تھی کپکپاتے […]

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے

وہ چومنے کو نظر کاش بار بار چلے پڑیں نہ پاؤں تقدس کا یہ تقاضا ہے وہ خاک جس پہ نبی زندگی گزار چلے دلوں کو سجدہ روا اس مقام کا بھی ہے نبی کے دوش کے جس جا پہ شہ سوار چلے وہ حجرہ دیکھے جہاں عمرؓ فیصلے کرتے وہ خاک چومے جہاں حیدرِ […]

کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا

ان کے نعلین کا جاں پر میری قبضہ ہوتا حشر تک سر نہ اٹھاتا میں درِ اقدس سے میری قسمت میں ازل سے یہی لکھا ہوتا ان کے جلوؤں میں مگن رات بسر ہو جاتی ان کو تکتے ہوئے ہر ایک سویرا ہوتا ان کی راہوں میں نگاہوں کو بچھائے رکھتا ان کی آہٹ پہ […]