آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم ا ے رسول محترم

میری ہر اک سوچ پر ہے آپ کا لطف و کرم اے رسول محترم آپکا ذکر مقدس ہر دعا کا تاج ہے غمزدوں کی لاج ہے اسکے بن بیکار ہر اک بندگی رب کی قسم اے رسول محترم آپ آئے کائنات حسن پر چھایا نکھار اے حبیب کردگار بزم ہستی کے ہیں محسن آپکے نقش […]

ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا

لبوں پہ ذکر مرے صبح و شام ہے تیرا جو تم نہ ہوتے تو بستی نہ عالم ہستی وجود کون و مکاں اہتمام ہے تیرا کوئی نہیں تیرا ہمسر نہ کوئی سایہ ہے سروں پہ سایہ ہمارے دوام ہے تیرا دلوں میں عشق نبی کا نہ دیپ جلتا ہو تو پھر فضول سجود و قیام […]

آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے دربار چلیں

مہکی یادوں کے پھول چنیں اشکوں کے لیکر ہار چلیں نہ کوئی روکنے والا ہو نہ کوئی ٹوکنے والا ہو روضے کے لمس کو جی بھر کر آنکھوں سے کرنے پیار چلیں جہاں مٹی سونا ہوتی ہے جہاں ذرے سورج بنتے ہیں اُن گلیوں کا اُن رستوں کا ہم بھی کرنے دیدار چلیں کہتے ہیں […]

ان کی دہلیز کے قابل میرا سر ہو جاتا

کاش منظور مدینے کا سفر ہو جاتا لوگ مجھ کو بھی بڑے چاؤ سے ملنے آتے محترم سب کی نظر میں میرا گھر ہو جاتا میں بھی چل پڑتا دل و جاں کو نچھاور کرنے پورا مقصد مرے جینے کا اگر ہو جاتا لیلۃ القدر ہر اک رات مری ہو جاتی عید جیسا میرا ہر […]

سوادِ عشق نبی کیا کمال ہوتا ہے

دیارِ روح میں حسن و جمال ہوتا ہے جو اس چراغ کا پروانہ بن کے رہ جائے اسے نہ کھال نہ جاں کا خیال ہوتا ہے سخاوتوں کے خزانے نثار ہوتے ہیں عقیدتوں کا سفر لازوال ہوتا ہے پھر ایک بار زیارت سے جاں مشرف ہو لبوں پہ شام و سحر یہ سوال ہوتا ہے […]

نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے

پھر اسی نور کو محبوب بنایا رب نے ان کی ہر بات میں رکھ رکھ کے محبت کی مٹھاس پیکرِ خُلق کا دیدار کرایا رب نے انبیا جب تیرے دیدار کو بے تاب ہوئے پھر امامت کو سرِ عرش بلایا رب نے پیکر حسن میں سب خوبیاں اپنی بھر کر تجھ کو قرآن کی صورت […]

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے بھی بڑھ کے ہے تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا تو کہا یہ اس نے بھی راز […]

صبح بھی آپ سے شام بھی آپ سے

میری منسوب ہر اک گھڑی آپ سے میرے آقا میرا تو یہ ایمان ہے دونوں عالم کی رونق ہوئی آپ سے آپ میرے تصور کی معراج ہیں میرے کردار میں روشنی آپ سے گر گیا تھا خود اپنی نظر سے بشر آج اس کو ملی برتری آپ سے آپ خالق کی بے مثل تخلیق ہیں […]

دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت

چومتا جاتا ہے کاغذ کو حرم کی صورت اس پہ تحریر ہوئی جاتی ہے آقا کی ثناء بن رہی ہے مرے عصیاں پہ کرم کی صورت آپ کا پیار سنبھالا جو نہ دیتا مجھ کو اور ہی ہوتی مرے رنج و الم کی صورت شہر تو شہر ہے شیدائی مرے آقا کے "​دشت میں جائیں […]

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے

مری سانس جس سے مہک اٹھے وہ قرار دل میں بسا رہے میں پڑا رہوں تری راہ میں تری چاہتوں کی پناہ میں مجھے ٹھوکروں کی نہ فکر ہو مرا زخم زخم ہرا رہے مری زندگی کا ہر ایک پل ترے پیار سے بنے با عمل تری چاہتوں پہ جیوں مروں ترے غم کی دل […]