قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی
قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی ہے لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے مالکِ کون و مکاں قاسمِ نعمت ہیں جو ہم فقیروں کے لیے ان کی عَطا کافی ہے آتے ہی ساری بلائیں مری ٹل جاتی ہیں اِن بلاؤں کے لیے ماں کی دُعا کافی ہے حدت حشر کا کچھ […]