قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی

قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی ہے لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے مالکِ کون و مکاں قاسمِ نعمت ہیں جو ہم فقیروں کے لیے ان کی عَطا کافی ہے آتے ہی ساری بلائیں مری ٹل جاتی ہیں اِن بلاؤں کے لیے ماں کی دُعا کافی ہے حدت حشر کا کچھ […]

ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا

یہی ہے ماحصل اس زندگی کا نہ ہو مقصود شاہ دیں کی مدحت نتیجہ کیا ہے ورنہ شاعری کا جہاں جانے کی ہے سب کی تمنا مدینے میں ہے وہ روضہ نبی کا بٹھا لوں ماں کو میں پلکوں پہ پھر بھی نہ ہوگا حق ادا اس زندگی کا جہاں جاؤ گے پاؤ گے انہیں […]

جی جگر ان پر لٹاتے آئے ہیں

باادب سر کو جھکاتے آئے ہیں رنج فرقت کو مٹانے کے لیے ہم دیا شب بھر جلاتے آئے ہیں ہو کرم کی اک نظر نور مبیں دیپ یادوں کی جلاتے آئے ہیں آسمان عشق پر اے سرورا اشک کے تارے سجاتے آئے ہیں نعمت کونین ہے درد جگر درد کو مرہم بناتے آئے ہیں مل […]

جو بھی کرے گا آپ کی مدحت مرے حضور

پائے گا دو جہاں میں وہ راحت مرے حضور محشر میں نفسی نفسی کی ہوگی پکار جب مجرم کو ڈھونڈے گی تری رحمت مرے حضور پائی ہے جس نے گلشن "​من زار” کی مہک اس کو ملے گی تیری شفاعت مرے حضور صورت کسی کی بھائے گی کیسے بھلا اسے جس نے بھی کی ہے […]

کر کے رب کی بندگی خاموش رہ

ہے اسی میں ہر خوشی خاموش رہ پہلے ہی یہ جانتے ہیں دل کی بات ہے یہ دربار نبی خاموش رہ مست ہوکر یاد میں ان کی ابھی کر رہا ہوں شاعری خاموش رہ کلمہءِ حق مشت میں سرکار کا پڑھ رہی ہے کنکری خاموش رہ کہہ رہا ہے ان کو تو اپنی طر ح […]

شاہ دیں کا کلمہ جو پڑھتا نہیں

خلد کا حقدار وہ ہوگا نہیں جا کے دیکھو گر یقیں ہوتا نہیں شہر طیبہ سا کوئی خطّہ نہیں حسن یوسف تھا عیاں سب پر مگر کوئی بھی سرکار کے جیسا نہیں مل گیا جس کو پسینہ شاہ کا مشک و عنبر اس نے پھر مانگا نہیں جو بھی آتا ہے درِ سرکار پر ہاتھ […]

ان کے در سے بتاؤ کیا نہ ملا

جو نہ تم کو ملا وہ نا ، نہ ملا ہو کے مربوط ان کے دامن سے یہ نہ کہنا مجھے خدا نہ ملا جو چلا ان کی راہ سے کٹ کر زیست میں اس کو ارتقا نہ ملا جس کا دل ان کی سمت ہے مائل دور رہ کر بھی وہ جدا نہ ملا […]

مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی

دیکھوں گا میں بھی روضۂ خیر البشر کبھی ہٹتی نہ مجھ سے چاند کی رشکی نظر کبھی بن جاتا سنگ راہ میں ان کا اگر کبھی بن جاؤں رشک مہر و مہ و نجم آسماں "​ہوجائے مصطفیٰ کی زیارت اگر کبھی” آقا کی انگلیوں کے اشارے کا تھا کمال ہوتا اِدھر ہلال تو ہوتا اُدھر […]

صحرا بھی چمکتے ہیں گلزار چمکتے ہیں

جو بھی ہیں مدینے میں کہسار چمکتے ہیں مسجد بھی چمکتی ہے مینار چمکتے ہیں سرکار دوعالم کے گھر بار چمکتے ہیں اب فرط مسرت سے دیوانو مچل جاؤ وہ دیکھو مدینے کے مینار چمکتے ہیں ہم لوگوں کی آنکھوں میں اللہ کی رحمت سے سرکار دوعالم کے پیزار چمکتے ہیں سرکارِ دو عالم کے […]

والیل والضحی کا ترانہ ہے خوب تر

والیل والضحٰی کا ترانہ ہے خوب تر سلطان دوجہاں کا سراپا ہے خوب تر دیکھا ہے جس نے روضۂ آقا سنو! اسے وجبت لہ شفاعتی مژدہ ہے خوب تر ان کے ہی نور سے ہوا روشن جہان یہ قد جاءکم کا دہر میں آنا ہے خوب تر شہ کے علم تلے وہاں میدان حشر میں […]