پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں

آخرِ شب مہِ طیبہ کو چمکتا دیکھوں ہر نئی شام نیا رنگِ تمنا لائے شوقِ دیدار کے غنچوں کو چٹکتا دیکھوں سبز گنبد مری آنکھوں میں سمائے ایسے آنسوؤں میں بھی یہی رنگ جھلکتا دیکھوں یاد آئیں مجھے اُس دانشِ کُل کی باتیں جب کسی دور کے انساں کو بھٹکتا دیکھوں ایک اعزاز ہے اُس […]

ہے کلامِ خدا ، کلامِ حضور

ماورائے گماں ، مقامِ حضور جان لیوا تھے غم زمانے کے دل دھڑکتا رہا بنامِ حضور انبیا اُن کے مقتدی ٹھہرے سب پہ لازم ہے احترامِ حضور آبروئے سُخن ہے نعتِ رسول اعتبارِ سُخن ہے نامِ حضور جب بھی نامہرباں ہوئے حالات آ گیا ہے زباں پہ نامِ حضور مٹ گئیں ساری ظلمتیں اخترؔ ایسے […]

بہ صد نیاز ، بہ صد احترام آیا ہے

مرے لبوں پہ محمد کا نام آیا ہے وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ ناز کرتے ہیں نبی کے شہر سے جن کو پیام آیا ہے بہ فیضِ چشمِ تصور ، فراق موسم میں حضور آپ کے در پر غلام آیا ہے مہک رہا ہے جو روضے کی جالیوں کے قریب صبا کے ہاتھ کسی کا […]

مظہرِ قدرت باری صورت

مظہرِ قدرت باری صورت روحِ کونین وہ پیاری صورت رونقِ جشنِ بہاراں کے لیے حق نے گلشن میں اتاری صورت جس مصور نے بنایا تم کو دیکھتا ہے وہ تمہاری صورت وجہِ تخلیق دو عالم تم ہو نقشِ اول ہے تمہاری صورت حشر میں شافعِ امت کے سوا کون دیکھے گا ہماری صورت

حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں

کہ ہے سدرہ تمہاری رہگذر میں یہ کس کا نقشِ پا سایا فگن ہے ہوئی یہ گفتگو شمس و قمر میں فرشتہ راستے میں رُک کے بولا نہیں اب قوتِ پرواز ، پَر میں ترا نام عرشِ اعظم پر لکھا ہے تری مدحت کتابِ معتبر میں بشر لکھنا بھی چاہے ، لکھ نہ پائے ہیں […]

عشقِ محبوبِ خدا روحِ مسلمانی ہے

جذبۂ حُبِ نبی ، جذبۂ ایمانی ہے اِس جہاں میں بھی حکومت ہے مرے مولا کی اُس جہاں میں بھی مرے شاہ کی سلطانی ہے حسنِ صورت میں کوئی ملتی ہے احمد کی مثال حسنِ سیرت میں محمد کا کوئی ثانی ہے؟ آپ کی چشمِ توجہ کے میں قربان ، آقا ذکر پیہم ہے ، […]

انجامِ طلب ، خواہشِ دیدار ہوا دل

یوں ظلمتِ ہستی میں ضیا بار ہوا دل اے حُسنِ ازل ، خواہشِ اظہار ہوا دل سرمایۂ مدحت کا طلبگار ہوا دل اُس نور کا مجھ پہ کرمِ خاص ہوا جب آنکھوں کے لیے حُجلۂ انوار ہوا دل حیرت کے دریچے سے وہ جلوہ نظر آیا سب بھید کُھلے ، واقفِ اسرار ہوا دل کچھ […]

مدّاحِ مصطفیٰ ہوں ، مقدر کی بات ہے

میں نعت کہہ رہا ہوں ، مقدر کی بات ہے اُس در پہ جا رہے ہیں میرے گھر سے بھی درود میں کون ہوں ، میں کیا ہوں ، مقدر کی بات ہے کیسے ملا خزانۂ عشقِ نبی مجھے میں خود یہ سوچتا ہوں ، مقدر کی بات ہے صلِّ علیٰ کے ورد سے رستے […]

ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں

سوزِ اویسؓ ، عشقِ بلالیؓ ہے نعت میں یہ سرخوشی کہاں ہے کسی اور صنف میں کیفیتِ سرور مثالی ہے نعت میں بھٹکے ہووں کو راہ دکھاتی ہے اُن کی نعت ذوقِ مسافرت کی بحالی ہے نعت میں ہر نعت میں ہے شہرِ مدینہ کا تذکرہ یوں جلوہ گر وہ خطۂ عالی ہے نعت میں […]

نعت سے دامنِ طلب بھر دے

میرے مولا! مجھے غنی کر دے سیم و زر میری آرزو ہی نہیں عشقِ احمد میں دیدۂ تر دے نامِ نامی برنگِ نو لکھوں مجھ کو حسانؓ کا مقدر دے اپنے محبوب کو خدائے کریم باغِ جنت دے ، حوضِ کوثر دے روزِ محشر نجات کا مژدہ عاصیوں کو شفیعِ محشر دے اُن کے روضے […]