میں ، مری آنکھیں ، تمنائے زیارت ، روشنی

خواب ، شہرِ مصطفیٰ ، صبحِ سعادت ، روشنی خواہشِ قلب و نظر ، زیبائشِ قلب و نظر ایک روشن شہر جس کی وجہِ شہرت روشنی یہ مرا ایمان ہے ، ہر روشنی سے پیشتر چاہتی ہے رُوئے انور سے اجازت روشنی جس نے سب تاریک راہوں میں اُجالا کر دیا زندگی کے ہر سفر […]

ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے

رت جگوں میں کتاب ہو جائے دولتِ عشق اس قدر پاؤں مفلسی ایک خواب ہو جائے زُلفِ والیل کے وسیلے سے ہر دعا مستجاب ہو جائے دل کو آسودگی ملے ، آقا ختم ہر اضطراب ہو جائے قافلے اس برس بھی جائیں گے اب مرا انتخاب ہو جائے نعت آںکھوں میں مسکراتی ہو اشک ٹپکے […]

اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ

ضوریز ، سحر بخش ، ضیا بار مدینہ ہر دور کی تہذیب جسے رشک سے دیکھے اُس حسنِ تمدن کا ہے شہکار مدینہ جب بات چلی عزت و اکرامِ بشر کی دنیا کو ملا ایک ہی معیار ، مدینہ ہجرت کی خبر سُن کے بہت شاد ہیں انصار کس شوق سے ہے طالبِ دیدار مدینہ […]

مرا دل تڑپ رہا ہے

کوئی قافلہ چلا ہے یہی ایک التجا ہے ترا شہر مُدعا ہے مری خلوتوں میں روشن ترے نام کا دیا ہے مرے رت جگوں کا حاصل تری مدحت و ثنا ہے ترا ذکر روشنی ہے ترا نام رہنما ہے کبھی مجھ پہ مہرباں ہو وہ خوشی جو اب خفا ہے تری اک نظر کے صدقے […]

خوش ہوں کہ پسِ مرگ یہ پہچان رہے گی

ہر مصرعِ مدحت میں مری جان رہے گی آدابِ محبت نہ فراموش کروں گا مستی بھی مری صاحبِ عرفان رہے گی یہ جسم کسی خاک میں پیوند ہو آقا یہ روح ترے شیر میں مہمان رہے گی صد شکر! ترا عشق سلامت ہے دلوں میں جب تک یہ رہا ، قوم مسلمان رہے گی دربار […]

مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے

میں نے تو ترا عشق ہی مانگا تیرے رب سے بے مثل ترا نام ہے ، بے مثل گھرانا انسان کی عظمت ہے ترے نام و نسب سے اے نور! ترا نور ہے مسجودِ ملائک آدم کو یہ اعزاز ملا تیرے سبب سے ہے سورۂ اخلاص سے ظاہر یہ مشیت توحید کا اعلان ہو محبوب […]

ہجومِ دُشمناں اب چار سُو ہے

محافظ اُمتِ عاجز کا اب تُو ہے یہ لمحہ معتبر ہے ، محترم ہے مرے ہونٹوں پہ تری گفتگو ہے مہ کامل ہے روشن تر وہ چہرہ جہاں میں کون ایسا خوبرو ہے تصور سبز ہے ، آنسو معطر یہ کیسا رنگ ہے ؟ یہ کیسی بُو ہے ؟ میں ہجرِ مصطفیٰ میں رو رہا […]

شگفتہ ہے گُلِ امکانِ رحمت

تعلق آپ سے ہے جانِ رحمت سدا سر سبز ہیں گُلہائے مدحت مہکتا ہے سدا گُلدانِ رحمت بروزِ حشر اُن کے اُمتی کا سہارا ہے ، فقط پیمانِ رحمت اسی در سے ملا ہے عارفوں کو شعورِ زندگی ، عرفانِ رحمت گروہِ انبیاء میں منفرد ہے تری شانِ شفاعت ، شانِ رحمت ترا دستِ سخا […]

کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

روتا رہوں گا مہر بہ لب ، جالیوں کے پاس لکھوں کا جب قصیدۂ حُسنِ گُلِ مراد سوچوں گا کچھ جدید لقب ، جالیوں کے پاس مل جائے گی سُخن کو سند اعتبار کی نعتِ نبی کہوں گا میں جب جالیوں کے پاس اللہ دعا قبول کرے ، اہلِ حُب و شوق پہنچیں ترے حضور […]

ایک یہ بات ہے اصول کی بات

مستند ہے مرے رسول کی بات خلق کے غمگسار سُنتے ہیں اُن سے کہیے دلِ ملول کی بات کہکشاں کی کہانیوں سے بلند قدمِ مصطفیٰ کی دُھول کی بات لیلتہ القدر میں کریں عشاق حُسنِ سرکار کے نزول کی بات میرے آقا کریم ایسے ہیں خود بھلاتے ہیں میری بھول کی بات نعت ذوقِ جمال […]