طلعتیں عام ہوئیں، زیست کا پایا ہے سراغ
نُطق کے طاق میں چمکا تری مدحت کا چراغ ہوسِ تام نے احساس پہ ڈالی ہے کمند مصدرِ فیضِ اَتم ! دھو مرے دامان کے داغ ایک ہی شعر میں مہکا تھا وہ اسمِ عالی دشتِ احساس میں کھِلنے لگے تحسین کے باغ دل نے جھٹلائی نہیں رویتِ معراجِ نظر شدتِ دید سے جھپکی نہیں […]