کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے
جب تری نعت کی خیرات کا در کھُلتا ہے موجۂ اذنِ سفر دیتا ہے حیرت کو نمو عرض سے پہلے مدارات کا در کھُلتا ہے نعت بے صوت عقیدت کا ہے اعجازِ سخن قریۂ دل میں مناجات کا در کھُلتا ہے پہلے کھِلتا ہے کفِ عرض پہ امکانِ درود بعد میں شہرِ سماوات کا در […]