اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن
پاسِ آدابِ مواجہ کوئی اظہار مکُن لوٹ جانا تو مقدر ہے مدینے سے، مگر دل کا معکوس تقاضا ہے کہ ایں کار مکُن یادِ سرکار چلی آتی ہے انوار بہ کف رتجگا خُوب ہے تو حسرتِ دیدار مکُن دیکھ! سُورج سے نہیں مانگتے انوار کی بھیک یہ مدینہ ہے یہاں شوق پہ اصرار مکُن بٹتی […]