ہم سے اب ہجر ہمارا نہیں دیکھا جاتا

دور سے شہر تمہارا نہیں دیکھا جاتا عرش نے آپ کے نعلین کو دیکھا ، تو کہا اس سے اوپر کا نظارا نہیں دیکھا جاتا منکرِ شانِ شفاعت یہ بتا! کیوں تجھ سے بے سہاروں کا سہارا نہیں دیکھا جاتا قدسی ہو کر بھی خطاکاروں کے جیسے تو نہیں اُن سے تو طیبہ دوبارہ نہیں […]

جب ہم اِدھر سے حرفِ ثناء لے کے چل پڑے

قدسی اُدھر سے ٹھنڈی ہوا لے کے چل پڑے مشغولِ سجدہ قلب و نظر ہیں ترے حضور ایسے میں کاش آئے قضا لے کے چل پڑے جب آپ مسکرائے تو گلشن سے یک بیک موسم خزاں کے اپنی ادا لے کے چل پڑے آگے کیا حضور کی نسبت کو حشر میں پھر پیچھے پیچھے اپنے […]

پر حقیقت حضور کا چہرہ

حق کی صورت حضور کا چہرہ مرکزِ چشمِ عالمیں ٹھہرا پروجاہت حضور کا چہرہ جسم جنت میں ساری کی ساری زیب و زینت حضور کا چہرہ ہے رعایا تمام خلقِ خدا بادشاہت حضور کا چہرہ غم میں ڈوبے گناہ گاروں کی استراحت حضور کا چہرہ وہ ہیں موضوعِ بوئے باغِ جناں جن کی مدحت حضور […]

سینہِ پر غم میں چاہت کا نشاں ہے دل کہاں ہے

یہ خطیبِ عشقِ جانِ دو جہاں ہے ، دل کہاں ہے میری آنکھوں نے ابھی دیکھا ہی تھا روضہ ترا دھڑکنیں کہنے لگیں مجھ سے کہاں دل کہاں ہے باہر آئے اپنی سوچوں سے قدم بوسی کرے بے حجاب اک پیکرِ رشکِ جِناں ہے دل کہاں ہے ؟ دل ہے گم تعظیمِ نقشِ پا میں […]

اک لطیف بات ہو گئی

میری بھی نجات ہو گئی وہ جو مصطفٰی کے ہو گئے ان کی کائنات ہو گئی وہ آنکھیں کھول دیں تو دن بنے بند کریں تو رات ہو گئی رب سے رب کے پیارے یار کی ہمارے بارے بات ہو گئی اُن کا نام سن کے اُن کے نام میری کل حیات ہو گئی راہ […]

نہ پل صراط نہ محشر کے دن سے ڈرتا ہے

جو روز اپنے نبی پہ درود پڑھتا ہے مہک سے جاتے ہیں اطراف مشک و عنبر سے تمہارا نام خیالوں سے جب گزرتا ہے درود پڑھنے کا رب یہ ثواب دیتا ہے کہ سیئات کو حسنات سے بدلتا ہے ہم اپنے رب کو بھی تجھ میں تلاش کرتے ہیں ہمیں یقیں ہے خدا بھی یہیں […]

نہ آفتاب نہ روشن قمر کی حاجت ہے

ہمیں تو نورِ شہِ بحر و بر کی حاجت ہے نشانِ منزلِ حق سے بھٹکنے والوں کو نصابِ حضرتِ خیر البشر کی حاجت ہے جہانِ حسرت و بے چارگی کا مارا ہے دلِ حزیں کو کسی باخبر کی حاجت ہے جہاں صدا سے بھی پہلے عطا کی بارش ہو گدا گروں کو اُسی ایک در […]

لفظِ سکون میں بھی کہاں اس قدر سکوں

جتنا حضور آپ کے دربار پر سکوں ہر چیز مصطفٰی کا مدینہ تو ہے نہیں دل میں جگہ بنا لے تو پھر عمر بھر سکوں سمجھا نہیں ہے عظمتِ دربارِ مصطفٰی ڈھونڈے فقیرِ طیبہ اگر دربدر سکوں دنیائے مضطرب کو کوئی تو شعور دو ہیں جس طرف حضور ملے گا اُدھر سکوں پھر یوں ہوا […]

اپنی بخشش کیلئے رو کے الگ بات کروں

کیوں نہ سرکار سے میں ہو کے الگ بات کروں گنبدِ سبز کو آنکھوں سے جو کچھ کہنا ہو بہتے اشکوں سے نظر دھو کے الگ بات کروں بات تو کر لوں مگر پھر یہ خیال آتا ہے کوئی صدّیق ہوں میں جو کے الگ بات کروں سوچتا ہوں کہ خدو خالِ غمِ عقبٰی سے […]

وارفتگانِ شوق و عزیزانِ با وفا

اے صاحبانِ علم و نقیبانِ ارتقاء ہے واقفینِ حدِّ ادب کی یہی نِدا آؤ کہ مل کے عام کریں سنتِ خدا حیّ علی الثناء حیّ علی الثناء ماحولِ قلب تب سے مِرا خوشگوار ہے آنکھوں میں شوق و عجز کا سارا خمار ہے لگتا ہے کائنات میں جیسے بہار ہے جب سے زمانے بھر کا […]