سائے میں تمہارے ہےقسمت یہ ہماری ہے

سائے میں تمہارے ہے قسمت یہ ہماری ہے قربانِ دل و جانم کیا شان تمہاری ہے کیا پیش کروں تم کو کیا چیز ہماری ہے یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے نقشہ تِرا دلکش ہے صورت تِری پیاری ہے جس نے تمہیں دیکھا ہے سو جان سے واری ہے گو لا […]

سب سے پہلے مشیت کے انوار سے

نقش روح محمد بنایا گیا​ پھر اسی نقش سے لے کے کچھ روشنی بزم کون و مکاں کو سجایا گیا وہ چراغ محبت جو روز ازل خلوت لامکاں میں جلایا گیا نور سے اس کے آخر جہاں کا جہاں ذرے ذرے کا دل جگمگایا گیا وہ محمد بھی احمد بھی محمود بھی حسن مطلق کا […]

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے

یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا کونین کی وسعت تو تہہ دستِ […]

نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود

ترے بغیر نظامِ شہود لا موجود حضور آپ سے قائم ہے ہستئ معلوم حضور خود سے تو میرا وجود لا موجود یہ اب جو تان کے سینہ کھڑا ہے سر پہ مرے شبِ لقا میں تھا چرخِ کبود لا موجود کہاں سے لاؤں تناسب میں کوئی حرفِ ثنا ترے جمال کی حد و حدود لا […]

دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے

آج پھر نعت کا دریائے کرم جوش میں ہے اذن مِلتے ہی نکل آئے گا یہ نُور بکف رات سے مِہر جو رقصاں تری پاپوش میں ہے بے خطر ایسے نہیں ہُوں مَیں سوئے حشر رواں میرے حصے کی شفاعت تری آغوش میں ہے ساتھ لے جا اے مدینے کے مسافر ! لے جا ایک […]

ممدوح ! کرشمہ ہے تری چارہ گری کا

مدّاح کو معلوم ہے سب بے ہُنری کا اے بادِ صبا ! پھر سے ذرا ذکرِ مدینہ مدت سے تھا مشتاق تری مژدہ بری کا صدیوں کی مسافت پہ ہے اِک زائرِ عاجز سرکار مداوا بھی ہو اس در بہ دری کا خود جھُومنے لگتے ہیں نکیرین برابر جب رنگ سا جمتا ہے تری مدح […]

کوئی فکر لو نہیں دے رہی’ کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا

رہ نعت میں کوئی آشنا ‘ مرا ہم.سفر نہیں ہورہا میں دیار حرف میں مضمحل’ میں شکستہ پا میں شکستہ دل مجھے ناز اپنے سخن پہ تھا سو وہ کارگر نہیں ہورہا مرے شعر اس کے گواہ ہیں ‘ کہ حروف میری سپاہ ہیں مگر اب جو معرکہ دل کا ہے’ وہی مجھ سے سر […]

تمام عمر کا حاصل حصول صلِ علیٰ

ہر ایک حرف برائے رسول صلِ علیٰ اُداس رُت کے امڈتے ہیں جب خزاں موسم تو پڑھنے لگتا ہے قلبِ ملول صلِ علیٰ نبی کے لاڈلے حسنین کا ہے ورد یہی انہیں سکھاتی رہی ہیں بتول صلِ علیٰ یہ مہر و مہ ترے نعلینِ ناز کی تلمیح یہ کہکشاں ترے قدموں کی دھول، صلِ علیٰ […]

کُن سے ماقبل کے منظر کی ہے تطبیق الگ

جوہرِ نُور ہے تُو، تیری ہے تخلیق الگ خُوب ہیں حرف و معانی و لغت، بحر و عروض نعت لکھنے کو مگر چاہیے توفیق الگ کوئی امکان بھی دے مرکزِ پُرکارِ خیال خامۂ شوق تو لے آیا ہے تشویق الگ خوبیاں یوں تو ہر اک کی ہیں بیاں میں محصور تیرے اوصاف کہ ان کی […]

خامۂ حرف بار چُپ، لہجۂ گُل بہار چُپ

تیرے حضور جیسے ہیں سارے ہی طرحدار چُپ جب کہ ہیں تیرے سامنے حرف و بیاں ہی دم بخود قطعاً عجب نہیں کہ ہے مجھ سا قلم فگار چُپ نکہت و نُور اس قدر بکھرے ہیں تیرے شہر میں باغِ جناں کے پھُول بھی جیسے ہوں پیشِ خار چُپ فیصلہ جب ہے تیرے ہاتھ یومِ […]