یہ قلب و نظر ہے برائے مدینہ

نثارِ مدینہ ،فدائے مدینہ مدینے کے دن ہوں مدینے کی راتیں خدا دیکھیے ! کب دکھائے مدینہ وہ ذکر نبی ہو کہ ذکرِ خدا ہو مجھے ہر طرح یاد آئے مدینہ مقام آپ کا عرشِ اعظم سے آگے زہے شانِ خیر الورائے مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مجھے ہر طرح یاد آئے مدینہ مری زندگی […]

زمیں پہ نازشِ انساں محمد عربی

فلک پہ نور کا ساماں محمدِ عربی دکھی دلوں کے لیے چارہ ساز ذکرِ نبی ہر ایک درد کا درماں محمدِ عربی تمہارے دم سے ہے ’’ تصویرِ کائینات میں رنگ‘​‘​ تمہی حیات کا عنواں محمدِ عربی مٹے ہیں فاصلے کون و مکاں کے آج کی شب ہیں آج عرش پہ مہماں محمدِ عربی ہر […]

پیکر دل رُبا بن کے آیا ، روح ارض و سما بن کے آیا

سب رسول خدا بن کے آئے ، وہ حبیب خدا بن کے آیا حضرت آمنہ کا دُلارا ، وہ حلیمہ کی آنکھوں کا تارا وہ شکستہ دلوں کا سہارا ، بے کسوں کی دعا بن کے آیا تاجداروں نے دی ہے سلامی ، بادشاہوں نے کی ہے غلامی بے مثال اس کا اسم گرامی ، […]

کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو

گوشہ بگوشہ دربدر قریہ بہ قریہ کو بہ کو اشک فشاں ہے کس لئے دیدہ منتظر میرا دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جو بجو میری نگاہ شوق میں حسن ازل ہے بے حجاب غنچہ بہ غنچہ گل بہ گل لالہ بہ لالہ بو بہ بو جلوہ عارض نبی رشک جمال یوسفی […]

عشق سرکار کا ہی کافی ہے

دل میں یہ اک دیا ہی کافی ہے اور دعاؤں کی ہم کو کیا حاجت لب پہ صلِ علیٰ ہی کافی ہے دونوں عالم کے بخشوانے کو حق ہے بس مصطفی ہی کافی ہے کیوں نہ ذکرِ نبی کروں ہر دم مجھ پہ ان کی عطا ہی کافی ہے کیسے جاؤں میں جانبِ طیبہ بہر […]

جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے

جو لفظ قرآن ہو گیا ہے ، وہ میرا ایمان ہوگیا ہے جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرّے خورشید بن گئے ہیں جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں ؟ خموش کیوں ہے نظام ہستی ملک ہیں […]

نگاہِ فکر روشن ہے طبیعت بھی منور ہے

میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو دوعالم سے بہتر ہے شفیعِ روزِ محشر ابجدِ شبیر و شبر ہے فضیلت جس کی درکِ حضرتِ عیسی سے باہر ہے حمید ہے زورِ مدحِ مصطفی کہ بادِ سر سر ہے ترا ہر لفظ جیسے کہ کوئی جبریل کا پر ہے میں کیوں جاؤں مدینہ میرا پیکر خود […]

جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا

غلامِ مصطفی خود کو بنایا ترے فرمان کو دل میں بسایا جہاں میں مرتبہ تب ہم نے پایا خدا سے اور کیا مانگوں محمد خدا نے امتی تیرا بنایا کہ دل میں دم نہیں باقی رہا اب مدینہ بهیج دے مجھ کو خدایا ترے محبوب سے ملنا ہے مجھ کو اجل کو بهیج دے پروردگارا […]

آنکھ پتھرائی ہُوئی ہے اب کہیں اندر اُتر

شیشۂ دل میں اے عکسِ گنبدِ اخضر اتر جذب کے امکان میں لا اب کوئی موجِ طرب خواب کے احساس میں اے منظرِ دلبر اُتر اُن کو آنا ہے نئے لمحوں کی آرائش کے ساتھ میرے آنگن میں سحَر اب صورتِ دیگر اُتر سوچ بے خود، سَر نہفتہ، حرفِ مدحت منفعل نقشِ نعلینِ کرم تُو […]

عجیب رہتا ہے اب تک خمار آنکھوں میں

بسا ہُوا ہے وہ شہرِ نگار آنکھوں میں نظر میں رہتے ہیں کھِلتے ہُوئے وہ باغِ تمَر کہ جیسے رہتی ہو تازہ بہار آنکھوں میں اُنہیں زمانوں میں بستے ہیں زیست کے لمحے رکھے ہُوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں پسِ خیال اُترتے ہیں قافلے پیہم قطار باندھے وہ ناقہ سوار، آنکھوں میں […]