مری دھوپ تم مری چھاوں تم مری سوچ تم میرا دھیان تم

تمہی تم ہو میرے وجود میں مرا حسن تم مری شان تم غم ہجر و شوق وصال پر ، مرے عشق کے خدوخال پر مرے خواب میرے خیال پر، مرے حال پر نگران تم مجھے تم ملے تو خدا ملا ، اور اسی سے اپنا پتہ ملا یہ سرا ملا وہ سرا ملا ، یہ […]

مجھ میں انکی ثنا کا سلیقہ کہاں

مجھ میں انکی ثنا کا سلیقہ کہاں، وہ شہِ دو جہاں وہ کہاں میں کہاں اُن کا مدحِ سرا خالقِ این و آں، وہ رسولِ زماں وہ کہاں میں کہاں اُن کے دامن سے وابستہ میری نجات، اُن پہ قربان میری حیات و ممات میں گنہگار وہ شافعِ عاصیاں، بے کسوں کی اماں وہ کہاں […]

سِوا ہے عرشِ بریں سے بھی بارگاہِ رسول

بیاں ہو کیسے کسی سے بھی عزّوجاہِ رسول جو نعت پڑھتے ہیں سرکار کی انھیں لوگو ملے گی حشر میں رحمت بھری پناہِ رسول ستارا اس کا چمک اٹھا بن گئی قسمت پڑی ہے جس پَہ بھی اک بار ہی نگاہِ رسول ہوئے ہزاروں پہ غالب یہ تین سو تیرہ شجاعتوں کا خزینہ تھی ہاں! […]

کوئی گل باقی رہے گا، نے چمن رہ جائے گا

پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو تم اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں […]

اے کہ ترے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز​

اے کہ ترا وجود ہے ۔وجہِ وجودِ کائنات​ اے کہ ترا سرِ نیاز حدِّ کمالِ بندگی اے کہ ترا مقامِ عشق قربِ تمام عینِ ذات​ خوگر بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے​ مالکِ مصر و کاشغر وارثِ دجلہ و فرات​ تیرے بیاں سے کھل گئیں ، تیرے عمل سے حل ہوئیں منطقیوں کی اُلجھنیں […]

سُتوں کی دیکھ کر حالت صحابہ سر بسر روئے

تمامی حاضرانِ مجلسِ خیر البشر روئے رُلائے جب کہ چوبِ خشک کو حضرت کی مہجوری کہو پھر عین غیرت سے نہ کیوں کر ہر بشر روئے سنی جب اس ستونِ عاشقِ بے تاب کی زاری رسول اللہ کے اصحاب کہیے ، کس قدر روئے کوئی ایسا نہ تھا اس بزم میں جس پر نہ تھی […]

دردِ غم سے دل مِرا ہو جائے خالی، الغیاث!

دردِ غم سے دل مِرا ہو جائے خالی، الغیاث دیکھ لوں گر روضہء عالی کی جالی ، الغیاث ہے یہی مرہم مِرا اِس سینہ ء صد چاک کا ہے یہی کافی علاجِ اندمالی ،الغیاث یا شفیع المذنبیں یا رحمت للعالمیں خاص محبوبِ خدا سلطانِ عالی ، الغیاث آج تک پیدا ہوا تم سا ، نہ […]

خوابِ دیرینہ کو مولیٰ تو حقیقت کردے

جاؤں طیبہ تو وہیں سے مجھے رخصت کردے ترے محبوب کا یارب میں پڑوسی بن جاؤں دور افتادہ کو تو صاحب قربت کردے مالکِ زیست ہے تو تیرے لیے کیا مشکل موت کو میرے لیے باعثِ برکت کردے کردے پیوند زمیں یوں کہ فلک رشک کرے اپنی قدرت سے تو اونچی میری قسمت کردے تائب […]

اک نور سا تا حد نظر پیشِ نظر ہے​

میں اور مدینے کا سفر پیشِ نظر ہے​ ہر چند نہیں تاب مگر دیکھیے پھر بھی​ وہ مطلع انوارِ سحر پیشِ نظر ہے​ جو میرے تخیل کے جھروکے میں کہیں تھا​ صد شکر وہ مقصودِ نظر پیشِ نظر ہے​ بخشش کا وسیلہ ہے ہر اک اشکِ ندامت​ کچھ خوف ہے باقی ، نہ خطر پیشِ […]

کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرے آقا نےعزت بچالی

فردِ عصیاں مری مجھ سے لے کر، کالی کملی میں اپنی چھپالی وہ عطا پر عطا کرنے والے اور ہم بھی نہیں ٹلنے والے جیسی ڈیوڑھی ہے ویسے بھکاری، جیسا داتا ہے ویسے سوالی میں گدا ہوں مگر کس کے در کا؟ وہ جو سلطان کون و مکاں ہیں یہ غلامی بڑی مستند ہے، میرے […]