ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتا

کاش سرکار دو عالم کا زمانہ ملتا آپ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے یوں مرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا آپ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر آپ کو دیکھتے رہنے کا بہانہ ملتا حشر […]

جہاں اُن کے نقشِ قدم دیکھتے ہیں

جبینِ مہ و مہر خم دیکھتے ہیں محمد کی مدحت متاعِ سخن ہے ہم انوارِ لوح و قلم دیکھتے ہیں سلامت دمِ آرزوئے محمد کہ آباد دل کا حرم دیکھتے ہیں ہم اہلِ نظر ہر نفس لوحِ دل پر وہ اسمِ گرامی رقم دیکھتے ہیں ضیا بار ہے دل میں عشقِ محمد فروزاں چراغِ حرم […]

حیات کچھ نہیں جو اُن کے ہم نہیں ہوئے تو

سفر عبث ہیں جو سوئے حرم نہیں ہوئے تو زمانے اپنی ہی نظروں سے گرتے جائیں گے اگر بلند نبی کے علم نہیں ہوئے تو یقین کر لو کہ ہم تم بھٹک گئے ہیں کہیں دیارِ پاک کی جانب قدم نہیں ہوئے تو وہی نکالیں تو نکلیں گے بحرِ عصیاں سے وجودیت کے خسارے عدم […]

حبیب ِ سیدِ کونین ہونے کی تمنا ہے

حبیب سیدِ کونین ہونے کی تمنا ہے بس اس قیمت پہ ہر اِک چیز کھونے کی تمنا ہے برا کیا اگر اس دکھ میں یہ آنکھیں بجھ ہی جائیں اب ان کی دید تک پیہم ہی رونے کی تمنا ہے میں ان کے پیار کے جھنڈے لگا دوں ایک اک دل میں سبھی کے دل […]

سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جداہے

سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے وہ امامِ صفِ انبیاؑء ہیں ان کا رتبہ بڑوں سے بڑا ہے کوئی لفظوں سے کیسے بتا دے ان کے رتبے کی حد ہے تو کیا ہے ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے صرف اللہ ان سے بڑا ہے وہ جو اک […]

لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

پہنچا دے مدینے میں الہی کسی صورت اور پھر اس پہ نچھاور کروں میں اشکوں کی لڑیاں پھر سامنے روضے کی ہو جالی کسی صورت بستی ہے تیری یاد سے بستی میرے دل کی بستی نہ کبھی ورنہ یہ بستی کسی صورت آقا کی ہو سیرت کے مطابق میری سیرت صورت نکل آئے کوئی ایسی […]

نعت میں کیسےکہوں ان کی رضا سےپہلے

میرےماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں جلوئہ صاحب لو لاک لما سے پہلے اُن کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سےپہلے اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا ہے محال کچھ بھی دامن میں […]

درود پڑھتی ہیں عندلیبیں سلام بھیجیں یہ پھول سارے

ہیں رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ میں یہ آیتوں کے نزول سارے وہ ایک اُمی نقیبِ حکمت کتابِ روشن پڑھا رہا ہے بتا رہا وہ ضابطے سب سکھا رہا ہے اصول سارے حضور کی راہ گزر سے ہٹ کر یہ غیر کے جو بھی راستے ہیں بس ان بیابان راستوں میں بچھے ہوئے ہیں ببُول سارے ہم […]

کس زباں سے ہو تعریف ان کی بیاں؟ وہ کہاں میں کہاں!

کس زباں سے ہو تعریف ان کی بیاں؟ وہ کہاں میں کہاں میں خطاکار وہ رحمتِ بے کراں، وہ کہاں میں کہاں میں کہ رسوائے مخلوق و ننگِ جہاں، وہ کہاں میں کہاں ان کی تعریف کرتی ہے حق کی زباں، وہ کہاں میں کہاں وہ ہیں محبوبِ خُلّاقِ کل انس و جاں، وہ کہاں […]

کیجیے کس زباں سے شکرِ خدا

کِیں عطا اس نے نعمتیں کیا کیا ہر سرِ مُو ہو گر ہزار زباں ہر زباں سے کروں ہزار بیاں مُو برابر نہ ہو سکے تقریر حمدِ خلاق و شکرِ رب قدیر ہے و معطی و منعم و وہاب جس کی رحمت کا کچھ نہیں ہے حساب ہیں عنایاتِ ایزدِ غفار یوں تو ہم سب […]