مدینہ ہے ارم کا ایک ٹکڑا یا رسول اللہ

سبھی قریوں کا سلطاں ہے یہ قریہ یا رسول اللہ قدم چومے جہاں خاکِ زمیں نے پاک احمد کے کہوں اس کو نہ کیوں جنت کا ٹکڑا یا رسول اللہ مراتب میں برابر کیسے ہو سکتے ہیں یہ دونوں کہاں غزوہ سا ہوتا ہے یہ سریا یا رسول اللہ اشارے سے ہوا کیسے قمر دو […]

زمیں کی ظلمتوں کو نور سے اپنے مٹایا ہے

زمیں کا ظلم و جور اپنی محبت سے گھٹایا ہے بہت خوش ہو گئے آقا جو دیکھا ولولہ سب کا جو استقبال میں بچوں نے دف اس دن بجایا ہے نبی اکرم نے یثرب کو مدینے میں بدل ڈالا فضاوں میں مہک پرور جو سانسوں کو ملایا ہے ہوئے قربان آقا پر جو دیکھا نور […]

لفظ ہیں نعت کے پہچان میں آ جاتے ہیں

’’ لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں ‘‘ جب قلم کو میں اٹھاتا ہوں برائے مدحت لفظ الہام کے دیوان میں آ جاتے ہیں جو محمد کی غلامی میں سدا رہتے ہوں وہ شفاعت کی گھنی شان میں آ جاتے ہیں جب مرے آقا محمد ہی خیالوں میں رہیں اُن پہ لکھنے […]

نظر آتے نہیں حالات اور آثار ، یا اللہ

مدینے میں مرا جانا ہوا دشوار ، یا اللہ دکھا دے مجھ کو مکہ اور مدینہ کے حسیں کوچے ’’ میں ہوں مجبور اور معذور تو مختار ، یا اللہ ‘‘ ہوائیں رقص کرتی تھیں فضائیں جھوم جاتی تھیں وہ جب گھر سے نکلتے تھے مرے سرکار ، یا اللہ قدم فیضِ محمد کا وہ […]

آپ سے مل گیا ہے وقارِ جدا

عود و عنبر نے پایا خمارِ جدا عظمتِ مصطفٰی سب جہاں سے الگ جو لحد میں بھی ہے غم گسارِ جد مصطفیٰ کے لیے دانت کر کے فدا ’’ قرنی ‘‘ دیکھو ذرا ہے نثارِ جدا ارضِ رب پر بسی لاکھ گو ہیں مگر جس نے کلمہ پڑھا سو سمارِ جدا آپ کی فوج سے […]

ہر اک ذرے میں احمد کا گزر ضو بار باقی ہے

مدینے میں جہاں جاؤں وہاں دیدار باقی ہے رواں سانسوں کی مالا میں نہاں احمد کا مسکن ہے دھڑکتے دل کی شوکت میں وہی دلدار باقی ہے مرے احمد کہیں گے حشر میں امت کی بخشش کا شفاعت حشر میں کرنے کا اک پِندار باقی ہے لحد میں غم گسارِ دل فگاراں ہی سہارا دے […]

درود چشم اور گوش پر کبھی صبا سے سن

سلام زلف اور گال پر کبھی خدا سے سن درود آل پر بلال پڑھ گئے ہیں جس طرح سلام اس غلام کا ہے آل پر ہوا سے سن درود مصطفٰی کی ہر پلک کی ہر جھپک پہ ہے سلام ان کی ریش پر ہوا کا سن فضا سے سن درود پڑھ کے مصطفٰی سے ہر […]

’’ حضور آپ کی سیرت کو جب امام کیا ‘‘

تو ہر قدم پہ جہاں نے مجھے سلام کیا مرے شعور میں لفظوں کے پھول کھلنے لگے جھکی جبینِ قلم تو بہ صد کلام کیا جہاں میں ایک بلالی وفا کو دیکھا ہے وہ خوش نصیب جسے آپ نے غلام کیا جہاں فضائے کدورت سے حبس ہوتا رہا وہاں حضور نے الفت کا فیض عام […]

معطر معطر پسینہ ہے ان کا

مطہر معنبر مدینہ ہے ان کا خدا کا کہا بولتے ہیں ہمیشہ خدا کا یہ قرآں قرینہ ہے ان کا نہیں ڈوب سکتا مجھے یہ یقیں ہے میں بیٹھا ہوں جس پر، سفینہ ہے ان کا منائیں گے میلاد ہم جس مہینے وہ خوشیوں کا محور، مہینہ ہے ان کا عقیق اور نیلم بنے اُن […]

خدایا مصطفٰی سے تو ملا دینا حقیقت میں

غمِ فرقت مرے دل سے مٹا دینا حقیقت میں جدائی کو میں سہ سہ کر نہ مر جاؤں کبھی مولا مرے دل کے سبھی دکھڑے گھٹا دینا حقیقت میں سلیقہ دے کوئی ایسا چلا جاؤں مدینے میں لگا کر پر مدینے تک اڑا دینا حقیقت میں معنبر جو ہوائیں تھیں کبھی فیضِ رسالت سے مجھے […]