نہ اِس جہاں میں نہ اُس جہاں میں

حضور جیسا نہیں زماں میں گھڑی جو محشر کی آئے یا رب نبی کی رکھنا مجھے اماں میں لکھوں میں جیسا بھی جو بھی یا رب سُرور کر دے مرے بیاں میں نبی کی فرقت کا جو نشہ ہے وہ روز پاتا ہوں میں فغاں میں جھکا ہوں جب سے نبی کے در پر بہار […]

’’ آپ کی یاد آتی رہی رات بھر ‘‘

نیند آنکھوں سے جاتی رہی رات بھر میں نے جیسے ہی چوما کبھی نقشِ پا اک مہک جی لبھاتی رہی رات بھر کس طرح سامنا ان سے کر پائے گی آنکھ آنسو بہاتی رہی رات بھر آپ کی نعت بنتی رہی سازِ دل جو زباں گن گناتی رہی رات بھر مل سکوں خواب میں یا […]

خوشبو جو مل گئی ہے یہ زلفِ دراز سے

وہ لطف ہم نے پایا ہے عشقِ مجاز سے کھانا بھی کھا رہا ہوں یہ ان کے کرم سے میں سب کچھ یہ مل رہا ہے مجھے بے نیاز سے عشقِ نبی نے کر دیا ہم دوشِ آسماں فرشِ زمیں بھی حیراں ہے میرے فراز سے کر دیتا خاک مجھ کو جلا کر مرا عمل […]

سو بار گناہوں سے جو دل اپنا بچائے

تب آقا سے ملنے کو مدینے میں وہ جائے منکر کی صفوں میں جو لیا نام نبی کا دشمن وہ ہوا دل سے مرا بیٹھے بٹھائے رہتا ہے مرے دل میں یہ ارمان ہمیشہ اے کاش مدینے کی کوئی بات سنائے قسمت کا سکندر ہے مقدر کا دھنی ہے میلاد کی محفل سے جو گھر […]

مرے آقا مجھے آتش میں اب گرنے نہیں دیں گے

چھپا لیں گے وہ کملی میں مجھے جلنے نہیں دیں گے تمنا ہے شہادت کی جو پوری ہو بھی جائے گی مجھے بے موت رستوں پر کبھی مرنے نہیں دیں گے گھٹائیں جم کے برسیں گی مری کٹیا پہ رحمت کی وہ غم خوارِ امم بھی ہیں مجھے سڑنے نہیں دیں گے لحد کا ڈر […]

مصطفٰی کے بنا بسر نہ ہوئی

رات گزری مگر سحر نہ ہوئی یہ صدا دل ، جگر ، نظر میں رہی ’’ وہ یہیں تھے مگر خبر نہ ہوئی ‘‘ میں خیالوں میں ڈھونڈتا ہوں جنہیں ان کی صورت ہی جلوہ گر نہ ہوئی دیکھ کر موسیٰ گر پڑے تھے جہاں چشم نادر اِدھر اُدھر نہ ہوئی ان کی سیرت پہ […]

خدایا میرے گھر میں بھی مدینے کا قمر اترے

مرے آقا کے آنے کی مرے دل میں خبر اترے وہ آئے میرے گھر میں تو منور میں بھی ہو جاؤں مدینے کا قمر اے کاش میرے بام پر اترے بہت چھایا اندھیرا ہے کبھی اک بار آ جائیں تو میرے گھر میں بھی خوشبو لیے کوئی سحر اترے خیالوں میں دھنک رنگوں کی صورت […]

خدا مجھ کو عطا کر دے گا درشن آپ کا ارفع

مری نظریں بھی دیکھیں گی وہ جوبن آپ کا ارفع جہاں مجرم کھڑے ہوں گے پکڑ کر آپ کا دامن وہاں پر بھی بچا لے گا وہ دامن آپ کا ارفع گھرانے سارے نبیوں کے ہوئے ارفع رہے اعلیٰ مگر سب ہی گھرانوں سے نشیمن آپ کا ارفع تناول کھانا فرماتے وہ جس مٹی کے […]

دلِ عشاق شہرِ نور سے آیا نہیں کرتے

یہ دیوانے غمِ فرقت سے گھبرایا نہیں کرتے سحابِ نور چہرے کی نظافت دیکھنے آتے وہ ہم جیسوں کے سر پر تو کبھی آیا نہیں کرتے مدینے میں چلو یارو جنھیں غم نے ستایا ہے سنا ہے غم دیارِ نور میں آیا نہیں کرتے عمل پیرا نہیں ہوتے کبھی سیرت پہ جو مسلم سنا ہے […]

درِ اقدس پہ مجھ کو بھی بلائیں گے کسی دن وہ

نظر اپنی مری جانب اٹھائیں گے کسی دن وہ مجھے مرسل سے ملنے کی تڑپ دل میں رلاتی ہے قمر سے بھی حسیں چہرہ دکھائیں گے کسی دن وہ وہ سایہ اپنی کملی کا عطا کر کے سرِ محشر تنی چادر تمازت کی اٹھائیں گے کسی دن وہ اے پیاسو مصطفیٰ کے گھر کبھی جانا […]