سورج ہے فقط ایک تری راہ کا ذرہ، اے ناقۂ قصوا!

رفتار جہاں ہے تری رفتار کا صدقہ، اے ناقۂ قصوا! جب نازشِ افلاک ہے تو مَرکبِ احمد ! اس درجہ ممجّد پھر کیا ہے ترے سامنے افرازِ ہمالہ،اے ناقۂ قصوا! اس بات میں تخصیص بہائم کی نہیں ہے ،یہ عینِ یقیں ہے انسان بھی ٹھہرا ہے ترا کشتۂِ غمزہ ،اے ناقۂ قصوا! صحرا کو جو […]

جھاڑ دے خاک قدم گر تری ناقہ آقا

سارے بیماروں کو ہو جائے افاقہ آقا سب اسیروں نے ترے در سے رہائی پائی ساری دنیا کا تو مولائے عِتاقہ آقا مُلک ارضین و سماوات کا کہنا کیا ہے لامکاں جب ہےترا جزوِ علاقہ آقا ترے دم سے دمِ انساں ہے بہ حصرِ تحفیظ ورنہ کچھ عیب نہ تھا خوں کا اِراقہ آقا چاہے […]

جن کی مدح و ثنا ہے کام مِرا

خود ہی کر لیں گے انتظام مِرا بات لب ہائے مصطفیٰ کی ہے ’’ کیوں نہ رنگین ہو کلام مِرا ‘‘ خلد کی مئے سے روک مت رضوان ! جب ہے ساقی مرا تو جام مرا حشر میں تن پہ ہے قبائے ثنا دیدنی آج ہے خرام مرا زندگی پھر شروع ہو ، گر ہو […]

ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا

بلبل کو ترنم تری تدویر سے پہنچا اے افصحِ مخلوق ! سرِ عرشِ بلاغت جبریلِ تکلم تری تقریر سے پہنچا ہے خضر سرِ چاہِ مہِ مصر ، کہ وہ خط تا چاہِ ذقن عارضِ تنویر سے پہنچا ہم وقت کی افواجِ یزیدی کو مٹادیں آلات شہا ! جذبۂِ شبّیر سے پہنچا ! ہے ذکرِ قیامت […]

ذوقِ نعتِ شہِ ابرار نے سونے نہ دیا

شب مجھے قسمتِ بیدار نے سونے نہ دیا ان کے رخسار کے تذکار نے سونے نہ دیا رات بھر کثرتِ انوار نے سونے نہ دیا سوئے عشاقِ نبی قبر میں تمثالِ عروس کون کہتا ہے کہ سرکار نے سونے نہ دیا ؟ رات بھر قلب رہا محوِ ثنائے سرکار ان کی زلفوں کے گرفتار نے […]

ہمیشہ جانبِ حسنِ عمل روانہ کیا

کبھی برائی کو تو نے شہا ! روا نہ کیا سجودِ حرف بہ ہر وقت خاشعانہ کیا نمازِ نعت کو ہم نے کبھی قضا نہ کیا رہا خموش یا سائل نے کچھ بہانہ کیا کرم ، کریم نے کس وقت بے بہا نہ کیا ؟ ترے عدو سے رہ و رسم کو روا نہ کیا […]

نظر سے ذروں کو سورج کے ہم کنار کیا

کرم سے آپ نے منگتوں کو تاجدار کیا بہ فیضِ زلفِ نبی الجھنیں سلجھتی ہیں بہ ذکرِ رُخ شبِ آلام کو نَہار کیا فروغِ دینِ خدا کا ہے یہ پسِ منظر ’’ ترے خلوص نے دشمن کا دل شکار کیا ‘‘ اِدھر درود کی آیت ہے دائمہ قضیہ اُدھر سجود فرشتوں نے ایک بار کیا […]

یہی انجامِ قال و قیل ہوا

تُو ورائے حدِ عقیل ہوا اس نے کوثر دیا کہ جس کے بقول کل متاعِ جہاں قلیل ہوا جس نے تیرے لعاب کو پایا کب وہ مشتاقِ سلسبیل ہوا اللہ اللہ شاہیِٔ خدام حکم دیتے ہی جاری نیل ہوا حافظِ نوح انہیں بچا ! جن کا چشمۂ چشم گویا جھیل ہوا معجزہ کیوں نہ پھر […]

فتحِ قفلِ سعادت ہے کارِ ثنا

سَدِّ بابِ شقاوت ہے کارِ ثنا اصلِ تحویلِ زحمت ہے کارِ ثنا وجہِ تحصیلِ رحمت ہے کارِ ثنا محوِ رنج و کثافت درود و سلام ثبتِ لطف و لطافت ہے کارِ ثنا ہوشِ خود رفتہ ادراک یادِ حضور زورِ گم گشتہ طاقت ہے کارِ ثنا نَفَسِ دم گرفتہ ، مدارِ حیات نطقِ لب بستہ حیرت […]

لہجۂِ گل سے عنادل نے ترنم سیکھا

اور غنچوں نے تبسم سے تبسم سیکھا نطقِ یوحٰی کے فدائی ہوئے عالم کے بلیغ میرے افصح سے فصیحوں نے تکلم سیکھا اللہ اللہ صحابہ تِرے سبقت والے جن سے عالم نے تبرُّع میں تقدم سیکھا کثرتِ جود سے دریا نے روانی پائی جوشِ رحمت سے ہے موجوں نے تلاطم سیکھا یہ بھی من جملہ […]