سورج ہے فقط ایک تری راہ کا ذرہ، اے ناقۂ قصوا!
رفتار جہاں ہے تری رفتار کا صدقہ، اے ناقۂ قصوا! جب نازشِ افلاک ہے تو مَرکبِ احمد ! اس درجہ ممجّد پھر کیا ہے ترے سامنے افرازِ ہمالہ،اے ناقۂ قصوا! اس بات میں تخصیص بہائم کی نہیں ہے ،یہ عینِ یقیں ہے انسان بھی ٹھہرا ہے ترا کشتۂِ غمزہ ،اے ناقۂ قصوا! صحرا کو جو […]